زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 327

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 327 جلد اول دنیا کی باقی حکومتوں سے بری ہے یا ان سے اچھی نہیں ہے۔اگر اس سے اچھی کوئی اور حکومت ہوتی تو جبکہ اشاعت اسلام تلوار سے نہیں بلکہ تبلیغ سے ہوئی تھی اس کے سوا کسی اور کو خدا تعالیٰ چنا۔خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ جب ایسے اسباب پیدا کرنے ہوں کہ حق کی اشاعت کے لئے تلوار اٹھانے کی ضرورت ہو تو اس کے لئے بدترین حکومت کو چنتا ہے۔اور اگر تبلیغ کے ذریعہ کرانی ہو تو اس زمانہ کی بہترین حکومت کو منتخب کرتا ہے۔اس لحاظ سے اس زمانہ کے حالات ، اس زمانہ کی برائیوں اور عیبوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم یقین رکھتے ہیں کہ تمام حکومتوں میں سے جو کہ ساری کی ساری خراب اور ساری کی ساری گندی ہیں انگریزوں کی حکومت بہتر ہے۔بے شک کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ بھی ظلم کرتے ہیں۔ہم کہتے ہیں کرتے ہیں مگر دوسروں سے کم کرتے ہیں۔جس قدرا پمپیریل حکومتیں غیر ممالک میں حکومت کرنے کے لئے جاتی ہیں اور جو دوسروں کی غلامی اپنی مضبوطی کیلئے ضروری سمجھتی ہیں، جو تمدنی لحاظ سے دوسروں کو اپنے قبضہ میں رکھنا ضروری سمجھتی ہیں ان سب سے انگلستان کی حکومت بہتر ہے۔جتنے نقائص اور عیوب اس میں پائے جاتے ہیں دوسری حکومتوں میں وہ بہت زیادہ پائے جاتے ہیں۔مگر باوجود اس کے ایک خیال ہے جو میرے دل میں آتا ہے اور جو میرے نزدیک بہت اہمیت رکھتا ہے وہ یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کی پیشگوئی ہے کہ آخری زمانہ میں سورج مغرب سے نکلے گا۔1 ہم اپنے پرانے خیال اور پرانے دستور کے مطابق جو ملک میں رائج ہے اور پرانے محاورہ کی وجہ سے جو مغرب - وابستہ ہے یورپ کو مغرب قرار دیتے چلے آئے ہیں۔اور واقعہ میں یورپ مغرب ہے۔مگر مغرب نسبتی امر ہے اور اب یہ بدلتا جاتا ہے۔اس سے مراد امریکہ لیا جاتا ہے۔یہ تغیر چند سال سے شروع ہوا 15 ، 20 سال سے زیادہ اس تغیر کی عمر نہیں ہے۔مگر اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مغرب کا مفہوم بدلتا جا رہا ہے۔یورپین اخبارات میں ممالک کے لحاظ سے مغرب کا لفظ اسی طرح استعمال کیا جاتا تھا جس طرح ہمارے ہاں استعمال کیا جاتا تھا۔مگر اب وہ مغرب کا لفظ امریکہ کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں اور مغرب کی طرف سے