زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 298

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 298 جلد اول میں ان دوستوں کے خیال پر تعجب کرتا ہوں جو کہتے ہیں شام میں تبلیغ مؤثر نہیں ہوئی۔میں کہتا ہوں ان معترضین میں سے بہت سے ایسے ہوں گے جو ایسے مقام پر ان حالات میں رہنا پسند نہ کریں گے اور بیسیوں ایسے ہوں گے جن کے رشتہ دار شور ڈال دیں گے کہ ان کو وہاں کیوں رکھا گیا ہے جہاں دن دہاڑے چھاپے پڑھتے ہیں، کبھی کوئی حصہ شہر کا مورچہ بن جاتا ہے کبھی کوئی۔اور گورنمنٹ کی یہ حالت ہے کہ اس نے امن قائم رکھنے کے لئے جو پولیس رکھی ہوئی ہے دشمن حملہ کرتا ہے اور پولیس کی وردیاں تک چھین کر لے جاتا ہے۔ایسی حالت کا اندازہ لگاؤ اور پھر دیکھو کہ وہاں رہنا کس قدر مشکل ہے۔جہاں کبھی دو تین پے در پے چوریاں ہو جائیں تو لوگوں کے چہروں سے فکر کے آثار نظر آنے لگتے ہیں حالانکہ چوریوں اور اس لڑائی میں بہت بڑا فرق ہے۔چور روپیہ چرانے کے لئے آتے ہیں جان لینے کے لئے نہیں آتے۔لیکن باغی روپیہ بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور جان بھی لیتے ہیں۔پھر چور رات کے وقت آتا ہے، اس کے آنے کا ایک مقررہ وقت ہوتا ہے کہ فلاں وقت تک لوگ جاگ رہے ہوتے ہیں اس کے بعد آئے۔پھر وہ یہ خیال کرتا ہے کہ ایسی جگہ جائے جہاں سے کچھ مل سکے۔ان باتوں کی وجہ سے اس کا دائرہ عمل محمد ود ہوتا ہے۔مگر باغی کا چونکہ ایک ہی مقصد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ لوگوں کے دلوں میں خوف پیدا کرے تا کہ وہ حکومت سے بیزار ہو جائیں اور حکومت کا رعب مٹ جائے لوگ سمجھنے لگ جائیں کہ وہ ان کی جان و مال کی حفاظت نہیں کر سکتی۔ان کے مدنظر میر بریزم (Terrorism) ہوتا ہے۔خطرہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔وہ کسی کی جان اس لئے نہیں لیتے کہ ان کا دشمن ہوتا ہے بلکہ وہ بسا اوقات دوست کو بھی مارتے ہیں تا کہ لوگوں کے دلوں میں یہ خیال بھی پیدا کر سکیں کہ حکومت اس کی حفاظت نہیں کر سکتی۔پھر ایسی حکومت کا کیوں ساتھ دیں۔ان حالات میں جو مشکلات ہمارے دمشق کے مبلغین کے راستہ میں تھیں ان کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ کثیر تعداد ایسے لوگوں کی ہوگی جو ایسے حالات میں ایسی جگہ ٹھہرنے کے لئے بھی تیار نہ ہوں گے چہ جائیکہ کوئی کام۔