زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 294

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 294 جلد اول دمشق میں تبلیغ احمدیت کی اہمیت حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کو ان کے دمشق سے واپس تشریف لانے پر طلباء مدرسہ احمدیہ نے 14 مئی 1926ء کو دعوت چائے دی۔اس موقع پر جو ایڈریس دیا اس کے جواب میں اول انہوں نے مختصر تقریر کی۔پھر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد دمشق میں تبلیغ احمدیت اور مبلغین کے کام پر ریویو فر ماتے ہوئے حسب ذیل تقریر فرمائی:۔اس قسم کے ایڈریس اور دعوتیں جیسی کہ آج کی دعوت تھی دو غرضوں سے دی جاتی ہیں۔ایک غرض تو ان کے اندر یہ ہوتی ہے کہ کسی قومی خدمت کرنے والے کی خدمت کے ابتدا یا انتہا یا درمیان میں اس کے کسی خاص فعل کے متعلق ملک یا جماعت یا قوم کی طرف سے اظہار شکریہ کیا جائے تا کہ دوسرے لوگوں کے اندر اس طرح کام کرنے کے جذبات اور شوق پیدا ہو اور جس نے کوئی خدمت کی ہے اس کے قلب میں یہ خوشی پیدا ہو کہ اس کی خدمات کو قبولیت کی نظر سے دیکھا گیا ہے اور اس کے افعال تحسین کی نظر سے خالی نہیں رہے۔دوسری غرض جو سیاسی ممالک ہوتے ہیں ان میں یہ ہوتی ہے کہ ایسے موقع پر کسی ایسے شخص سے جو ملک یا قوم کی باگ اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے اس کام کے متعلق بعض آراء خودسٹنا یا دنیا کو سنوانا چاہتے ہیں۔ان کی غرض یہ نہیں ہوتی کہ اظہار عقیدت کریں۔یہ بھی ہوتی ہے مگر اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ کسی خاص واقعہ کے متعلق خاص شخص کی رائے معلوم کی کی جائے۔سیاسی ممالک میں یہی غرض اہم سمجھی جاتی ہے اور جو آزاد حکومتیں ہیں ان میں موقع پیدا کیا جاتا ہے کہ کسی خاص بات کا ذکر کیا جائے۔