زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 281

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 281 جلد اول قرآن کریم کی خوبیوں سے بڑھ نہیں سکتیں۔میں کبھی کسی مذہب کی کتاب اس نیت سے نہیں پڑھا کرتا کہ اس پر اعتراض کروں بلکہ اس لئے پڑھتا ہوں کہ اس میں سے خوبی معلوم کروں۔اس طرح قرآن کریم کی اور بھی زیادہ فضیلت ثابت ہوتی ہے۔کیونکہ قرآن کریم کی خوبیاں ان کی خوبیوں کے مقابلہ میں بڑھ کر ہوتی ہیں اور بڑائی یہی ہے کہ دوسروں کی خوبیوں سے بڑھ کر خوبیاں ہوں نہ یہ کہ دوسروں میں نقص قرار دے کر اپنی خوبی بتائی جائے۔ایک لولے لنگڑے کو گر الینا بہادری نہیں ہوتی بلکہ ایک طاقتور اور زور آور کو گرانا بہادری ہوتی ہے۔میں نے دیکھا ہے انگریز گزشتہ جنگ میں جس مقام پر شکست کھاتے وہاں کی فوج کی بھی بڑی تعریف کرتے کہ بڑی بہادر قوم ہے۔اس سے یہ بتانا مقصود ہوتا تھا کہ ہم نے یونہی شکست نہیں کھائی ہمارے مقابلہ میں بڑی بہادر قوم تھی اور جس پر فتح پاتے اس کی بھی بہت تعریف کرتے۔پس ہر مذہب کی کتب کو اس طرز سے پڑھنا چاہئے جس طرز پر اپنی کتب پڑھی جاتی ہیں۔مثلاً قرآن کریم میں جہاں نمل کا ذکر آتا ہے وہاں ہم کہتے ہیں اس سے چیونٹی مراد نہیں بلکہ ایک قوم کا نام ہے۔اسی طرح ویدوں کے منتروں کی بھی کوئی توضیح کی جائے تو اسے تسلیم کرنا چاہئے اور دیگر مذاہب کی خوبیاں تسلیم کر کے ان سے زیادہ اسلام کی خوبیاں ثابت کرنی چاہئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے پہلے مسلمانوں کا یہ عقیدہ تھا کہ صرف قرآن کریم میں خوبیاں ہیں اور کسی مذہب میں نہیں۔لیکن جب دیگر مذاہب والوں نے یہ دکھا دیا کہ جس طرح اسلام میں حکم ہے سچ بولو اسی طرح ہمارے مذہب میں بھی یہی حکم ہے تو یہ خوبی صرف اسلام میں نہ رہی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس نقطہ نگاہ کو بدل دیا ہے اور بتایا کہ دیگر مذاہب میں بھی خوبیاں ہیں لیکن اسلام میں ان سے بڑھ کر ہیں۔مثلاً آپ نے بتایا کہ اسلام اخلاق اس کو نہیں قرار دیتا جو تہذیب اور تمدن کی مجبوری کے ما تحت فعل کیا جائے۔یہ تو طبعی تقاضا کے ماتحت ہوتے ہیں۔اخلاق وہ ہے جو قوت فکر یہ