زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 280
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 280 جلد اول کے متعلق بیان کی تھی جس پر لوگ اعتراض کیا کرتے ہیں اور اب بھی اگر اس کی تشریح نہ کی جائے تو قابل اعتراض ہی سمجھیں مگر اس کے اندر ایک اور حقیقت تھی۔وہ بات حضرت من کی انجیر کے درخت پر لعنت کرنا ہے۔یہ شام کے درختوں میں سے ایک درخت ہے اور خصوصیت سے اس علاقہ میں کثرت سے پایا جاتا ہے جس میں حضرت عیسی رہتے تھے۔انہیں کوئی نبی نہ مانے مگر پھر بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ان جیسا زیرک آدمی غیر موسم میں انجیر کے درخت کے پاس چلا جائے اور اس پر پھل تلاش کرے۔اور جب کچھ نہ ملے تو اس پر لعنت کرنے لگے۔کیا ہمارا ایک بچہ بھی اس موسم میں جبکہ آم کے ساتھ آم نہیں لگتے آم کے درخت کے پاس آموں کے لئے جائے گا ؟ اگر نہیں تو وہ کس طرح چلے گئے۔دراصل اس سے مراد تمثیلی کلام ہے اور انجیر سے مراد یہودی قوم ہے۔ایک پھلدار درخت کی قدر و قیمت اس کے پھل سے ہی ہوتی ہے۔ایک آم کا درخت اگر پھل دیتا ہے تو آم کا درخت ہے ور نہ جلانے کے قابل لکڑی ہے۔یہی بات یہود کو حضرت مسیح نے اس تمثیل میں سمجھائی کہ جب تک الہام کا سلسلہ یہود میں جاری رہا وہ زندہ قوم رہی اور جب یہ بند ہو گیا تو وہ کسی کام کی نہ رہی۔انہوں نے انجیر کے درخت کی طرف دیکھا اور تمثیلی طور پر کہا دیکھو یہ پھل نہیں دیتا۔اس وقت یہودیوں کا گروہ ان کے ساتھ تھا۔انہیں بتایا کہ ایسی حالت میں تم لعنتی ہو۔جب اپنے مذہب کا کوئی پھل نہیں مانتے۔1 حضرت مسیح موعود نے بھی ان کے لوگوں پر لعنت کی ہے جو امت محمدیہ میں تمیں دجال تو مانتے ہیں لیکن ایک مسیح نہیں مانتے۔تو یہ ان کا تمثیلی زبان میں کلام تھا۔غرض ہر مذہب کی تعلیم کو اگر انسان اس نقطہ نگاہ سے دیکھے جس سے اپنے مذہب کی تعلیم کو دیکھتا ہے تو بہت سی باتوں کا حل اسے مل جائے۔کئی لوگ دیگر مذاہب کی کتب است ڈر سے نہیں دیکھتے کہ شاید اس مذہب کی خوبیاں دل پر اثر کر جائیں۔مگر میرے نزدیک یہ بزدلی ہے۔میں ہر مذہب کی کتب کو بڑی دلیری اور جرات سے پڑھتا ہوں۔کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اگر ان کتابوں کا ایک ایک لفظ بھی خوبی بن جائے تو بھی ان کی خوبیاں