زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 244
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 244 جلد اول ذاتی ذوق کے مطابق نہ ہو اور خواہش یہ ہو کہ دنیا کے گوشوں میں پھر کر تبلیغ اسلام کی جائے اور خاص کر جن کے احسان کا بار ان کے کندھوں پر ہے ان کا حق ادا کیا جائے لیکن پھر بھی انتظام کو مدنظر رکھتے ہوئے اب جو کام ان کے سپرد کیا گیا ہے وہی زیادہ اہم ہے۔اگر بعض حکمتیں نہ ہوتیں تو میرے نزدیک ایسے کام کے لئے ایک مرکزی آدمی کو بھیجنا گناہ ہوتا۔پس انہیں اپنے مقصد اور مدعا کو پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔آخر میں پھر میں اپنے عزیزوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ دنیا میں سب سے بڑھ کر خدا کا تعلق ہے۔اگر ہم اپنے نفسوں کی اصلاح کر لیں تو دنیا کی سب چیزیں ہمارے قبضہ میں آ سکتی ہیں۔حضرت مسیح موعود کا یہ شعر ہے جس کا دوسرا مصرعہ الہامی ہے کہ ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتقا ہے اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے اگر تمہارے دلوں میں خدا تعالیٰ کی محبت ، اس کی خشیت ہو تو تمہارا ہر کام ٹھیک ہوگا۔پس تم اپنے قلوب میں خشیت اللہ اور ایمان پیدا کرو۔اس کے بعد میں جانے والے عزیزوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ گوجسمانی طور پر وہ ہم سے جدا ہوں گے اور ایک عزیز تو لمبے عرصہ کے لئے جدا ہو رہا ہے مگر روحانی لحاظ سے وہ ہمارے قریب ہوں گے۔اس وقت ان کے متعلق ان کے رشتہ داروں کے جو جذبات ہیں میں انہیں سمجھ سکتا ہوں۔مگر میں یہ بھی جانتا ہوں کہ رشتہ داروں کو جسمانی طور پر جو صدمہ ہو گا اس کے مقابلہ میں روحانی تعلقات ایسے ہوتے ہیں کہ جن کے سامنے جسمانی تعلقات حقیر ہوتے ہیں۔اور وہ ایسے جذبات ہوتے ہیں کہ قریبی سے قریبی رشتہ داروں میں بھی ویسا جذ بہ نہیں ہوتا۔اس وجہ سے میں سمجھتا ہوں ان کی جدائی سے فراق کا صدمہ اٹھانے والے وہی لوگ نہیں جو جسمانی تعلق رکھتے ہیں بلکہ اور جماعت بھی ہے جو روحانی تعلق رکھتی ہے۔اور بعض حالتوں میں روحانی تعلق رکھنے والوں کو قریبی رشتہ داروں سے بھی زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔ایسی حالت میں میں انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے عملی طریق