زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 238
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 238 جلد اول ہیں کیونکہ ہم سے کئی بار غلطیاں ہوتی ہیں مگر ہم اس کی باتوں کو جھوٹا نہیں کہہ سکتے جس نے خدا تعالیٰ سے کلام پا کر ہمیں سنایا۔کیونکہ ہم نے اس کے کلام میں وہ صداقت دیکھی جس کا مقابلہ دنیا کی کوئی چیز نہیں کر سکتی۔اور اگر سچ پوچھو تو ہمیں قرآن کریم پر رسول کریم ہے پر بھی اسی کے ذریعہ ایمان حاصل ہوا۔ہم قرآن کریم کو خدا کا کلام اس لئے یقین کرتے ہیں کہ اس کے ذریعہ آپ کی نبوت ثابت ہوتی ہے۔ہم محمد ﷺ کی نبوت پر اس لئے ایمان لاتے ہیں کہ اس سے آپ کی نبوت کا ثبوت ملتا ہے۔نادان ہم پر اعتراض کرتا ہے کہ ہم کیوں حضرت مسیح موعود کو نبی مانتے ہیں اور کیوں اس کے کلام کو خدا کا کلام یقین کرتے ہیں۔وہ نہیں جانتا کہ قرآن پر یقین ہمیں اس کے کلام کی وجہ سے حاصل ہوا ہے اور محمد ﷺ کی نبوت پر یقین اس کی نبوت کی وجہ سے ہوا ہے۔اگر حضرت مرزا صاحب کا وجود نہ ہوتا اور ہم آباؤ اجداد کی اندھی تقلید نہ کرتے تو کوئی وجہ نہ تھی کہ قرآن کریم کو خدا تعالیٰ کا کلام اور محمد عدلیہ کو خدا کا رسول سمجھتے۔یہ آپ ہی نے آکر بتایا اور ثابت کیا۔تو ان حالات میں ایک چیز ہی ہے جو اس بات کا یقین دلاتی ہے کہ اسلام کو غلبہ حاصل ہوگا ورنہ ظاہری حالات سخت خلاف ہیں۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ ہمارا کتنا اہم اور مشکل کام ہے۔اس کے متعلق ہمارا یہ خیال کہ ہم اسے اپنی سعی اور تدبیر سے کرلیں گے ایسا ہی ہے جیسا کہ کوئی کہے میں سرمار کر ہمالیہ گرا دوں گا یا ایک چلو سے سارے سمندر خشک کر دوں گا بلکہ اس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔کیونکہ مادیات میں تغیر آسان ہوتا ہے به نسبت قلوب میں تغیر کرنے کے۔ایسے عظیم الشان کام کے لئے جب ہم کھڑے ہوئے ہیں تو ضروری ہے کہ ایسی طاقت سے تعلق رکھیں جو تمام طاقتوں کا منبع ہے اور اسی پر بھروسہ رکھیں وہ ایک ہی ذات ہے جو خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔اگر ہم نے حضرت مسیح موعود کی ذات میں کوئی نشان دیکھا، اگر آپ کے کلام میں معجزہ نظر آیا ، اگر آپ کی تحریر میں بے نظیر قوت دیکھی تو اس کی ایک ہی وجہ تھی کہ اس انسان پر جس کا جسم ایسا ہی تھا جیسا کہ ہمارا جسم ہے۔جس کی عقل ایسی ہی تھی جیسی ہماری ہے۔جس کا علم ایسا ہی تھا جیسا کہ ہمارا ہے بلکہ