زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 235

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 235 جلد اول مجاہدین شام کی الوداعی دعوت میں تقریر 25 جون 1925ء کو مجاہدین شام کی الوداعی دعوت کی گئی۔اس موقع پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل تقریر فرمائی۔آج ( 25 جون 1925ء ) جس غرض کے لئے ہمارے بچوں نے ٹی پارٹی دی ہے وہ وہ غرض وحید ہے جس کے لئے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دنیا میں مبعوث فرمایا اور جس غرض اور مقصد کو آج دنیا جنون اور پاگل پن خیال کرتی ہے۔غیر مسلم تو الگ رہے مسلمانوں میں سے تعلیم یافتہ طبقہ کے وہ لوگ جن کی نظریں وسیع اور جن کے معلومات زیادہ ہیں میں سمجھتا ہوں ان میں سے 99 فیصدی یا اس سے بھی زیادہ ایسے لوگ ہیں جو اپنے دلوں میں یقین رکھتے ہیں کہ اسلام کی تعلیم کا دنیا میں اس طریق سے رائج ہونا جس طریق پر پہلے رائج ہوئی تھی نا ممکن ہے۔یورپ کی تعلیم ، یورپ کا طریق، یورپ کا فلسفہ، یورپ کی تہذیب، یورپ کا تمدن ان باتوں نے ان کے قلوب پر ایسا گہرا اثر کیا ہے اور اتنی گہری جڑھیں پکڑ لی ہیں کہ اس درخت کا اکھیڑ پھینکنا انسانی فہم و فراست میں نہیں آسکتا۔دنیا میں دو قسم کے یقین ہوتے ہیں۔ایک جہالت سے اور ایک علم۔میں نے بار ہا بتایا ہے کہ قرآن کریم پڑھنے والے لوگ ان دونوں قسموں میں منقسم ہوتے ہیں۔دونوں کو قرآن پر یقین ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلمات ہیں۔ان میں سے ایک تو بغیر علم قرآن کریم کا مطالعہ کرتا ہے۔بغیر نئی معلومات رکھنے کے، بغیر فلسفہ کی واقفیت کے، بغیر قرآن کریم میں گہرا جانے کے پڑھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خدا کا کلام ہے۔اسے اس بات پر یقین ہوتا ہے مگر وہ یقین عرفان اور معرفت کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ جہالت کا یقین ہوتا