زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 180
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 180 جلد اول انہوں نے قتل کر دیا۔تو سپاہی کی لڑائی صحابی کی لڑائی کے مقابلہ میں نہیں آسکتی۔سپاہی لالچ اور ڈر کے لئے لڑتا ہے لیکن صحابی خدا کے لئے لڑتا ہے۔تمہاری اطاعت صحابہ جیسی ہونی چاہئے۔اور ان کی اطاعت ایسی تھی کہ جو مخلص تھے وہ کسی حالت میں بھی نافرمانبرداری نہیں کرتے تھے۔ایک دفعہ رسول کریم ﷺ نے مسجد میں لوگوں کو فر ما یا بیٹھ جاؤ۔عبد اللہ بن مسعود گلی میں سے گزر رہے تھے ان کے لئے یہ حکم نہ تھا لیکن جب ان کے کان میں یہ آواز پڑی تو وہیں بیٹھ گئے اور بیٹھے بیٹھے چل کر مسجد میں آئے۔3 ہر ایک مومن میں فرمانبرداری ایک نہایت ضروری امر ہے اور خصوصیت کے ساتھ اس جماعت کے لئے جو چھوٹی ہو ورنہ لاکھ میں سے ایک بھی ایسا چانس نہیں کہ وہ کامیاب ہو سکے۔پس تم لوگ اپنے افسروں کی کامل فرمانبرداری سے کام کرو اور اس بات کو خوب یا درکھو۔میاں غلام رسول صاحب ریڈر پشاور جو یہاں پڑھتے بھی رہے ہیں اس وجہ سے سابق ہونے کے خیال سے اس وفد کا میں نے ان کو امیر مقرر کیا ہے۔رستہ میں جس طرح کہیں اور جو انتظام کریں سب کو اس کی پابندی کرنی چاہئے اور وہاں پہنچ کر امیر وفد چودھری فتح محمد صاحب سیال ہیں ان کی اطاعت فرض ہے۔پھر وہ جس کے سپرد کریں ان کی اطاعت ضروری ہے۔اس کے بعد میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ تم کو بھی اور جو دوست جاچکے ہیں ان کو بھی کامیابی کا سہرا عطا فرمائے۔“ الفضل 20 جولائی 1923 ء ) 1 تذکرہ صفحہ 83 ایڈیشن چہارم 2004 ء 2 بخاری کتاب المغازی باب من قتل من المسلمين يوم أحد صفحہ 691 حديث 4082 مطبوعہ ریاض 1999ء الطبعة الثانية 3 ابو داؤد کتاب الصلواة ابواب الجمعة باب الامام يكلم الرجل في الخطبة صفحہ 165 حدیث 1091 مطبوعہ ریاض 1999ء الطبعة الأولى