زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 12
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 12 جلد اول نصائح مبلغین 12 مار 1916ء کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے مبلغین کو نصائح کرتے ہوئے ایک پر حکمت لیکچر دیا جو بعد میں نصائح مبلغین" کے نام سے کتابی صورت میں شائع ہوا۔وہ لیکچر حسب ذیل ہے۔تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔تبلیغ میں تزکیہ نفس سے غافل نہ ہو سب سے پہلے مبلغ کے لئے ضروری ہے کہ وہ تزکیہ نفس کرے۔صحابہ کی نسبت تاریخوں میں آتا ہے کہ جنگ یرموک میں دس لاکھ عیسائیوں 1 کے مقابل میں ساٹھ ہزار صحابہ تھے۔قیصر کا داماد اس فوج کا کمانڈر تھا۔اس نے جاسوس کو بھیجا کہ مسلمانوں کا جا کر حال دریافت کرے۔جاسوس نے آکر بیان کیا مسلمانوں پر کوئی فتح نہیں پاسکتا۔ہمارے سپاہی لڑکے آتے اور کمریں کھول کر ایسے سوتے ہیں کہ انہیں پھر ہوش بھی نہیں رہتی۔لیکن مسلمان با وجود دن کو لڑنے کے رات کو گھنٹوں کھڑے رو رو کر دعائیں مانگتے ہیں۔خدا کے حضور گرتے ہیں۔یہ وہ بات تھی جس سے صحابہ نے دین کو قائم کیا۔باوجود اپنے تھکے ماندے ہونے کے بھی اپنے نفس کا خیال رکھا۔بعض دفعہ انسان اپنے تبلیغ کے فرض میں ایسا منہمک ہو جاتا ہے کہ پھر اسے نمازوں کا بھی خیال نہیں رہتا۔ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ہر ایک چیز اپنے اپنے موقع اور محل کے مطابق اور اعتدال کے طور پر ہی ٹھیک ہوا کرتی ہے۔لوگوں کی بھلائی کرتے ہوئے یہ نہیں ہونا چاہئے کہ انسان اپنی بھلائی سے بے فکر ہو جائے۔پس ضروری ہے کہ وہ اپنا تزکیہ نفس کرے۔قرآن شریف کا مطالعہ کرے۔پھر اپنے نفس کا مطالعہ کرے۔تبلیغ بہت عمدہ کام ہے مگر تبلیغ کرنے میں بھی