زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 173 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 173

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 173 جلد اول میں نے وہاں کام کرنے والوں کے لئے کچھ ہدایات لکھی ہیں امید ہے کہ وہ آپ لوگوں کو مل گئی ہوں گی اور آپ ان پر عمل کریں گے۔میں نے پچھلے وفد کو بتلایا تھا کہ بعض باتیں بہت معمولی معلوم ہوتی ہیں لیکن ان کے نتائج بہت بڑے نکلتے ہیں۔اور بعض بڑی ہوتی ہیں اور ان کے نتائج بہت معمولی ہوتے ہیں۔مگر بہت چھوٹی چھوٹی باتوں سے تو میں تباہ ہو جاتی ہیں اور بہت چھوٹی چھوٹی باتوں سے بڑھ جاتی ہیں۔بعض دفعہ ایک لفظ منہ سے نکلا ہوا ایک قوم کو ترقی کے کمال پر پہنچا دیتا ہے اور بعض دفعہ ایک لفظ نکلا ہوا ہلاکت کے گڑھے میں گرا دیتا ہے۔بعض دفعہ ایک خیال انسان کی نجات کے لئے کافی ہو جاتا ہے اور ایک خیال اس کی تباہی کا باعث بن جاتا ہے۔تو چھوٹی چھوٹی باتوں کے ثمرات بہت بڑے بڑے نکلتے ہیں۔انسان سمجھتا ہے فلاں بات کا کیا نتیجہ نکلے گا یا سمجھتا ہے معمولی نتیجہ نکلے گا مگر نہ اس کا نتیجہ معمولی ہوتا ہے اور نہ وہ بے نتیجہ ہوتی ہے۔پس کسی بات کے متعلق یہ خیال نہ کرو کہ معمولی ہے۔میں نے بعض لوگوں کو حیرت سے کہتے سنا ہے اور مجھے ان کی حیرت پر حیرت آتی تھی مگر ان کے علم اور عقل کو دیکھ کر دور ہو جاتی تھی۔وہ حیرت سے پوچھتے کہ ٹریننگ سکول میں کیا سکھلاتے ہیں؟ وہاں بچوں سے بعض خاص سلوک کرنے سکھائے جاتے ہیں۔طرز تعلیم بتائی جاتی ہے۔اس کے لئے بعض ایسی موٹی موٹی باتیں ہوتی ہیں کہ کوئی کہہ سکتا ہے ان سے کیا نتیجہ نکل سکتا ہے مگر وہ بہت مفید ہوتی ہیں اور ان سے بہت اعلیٰ نتائج نکلتے ہیں۔اسی طرح صحت کے متعلق ہم دیکھتے ہیں بہت چھوٹی چھوٹی باتیں اس کے لئے سخت نقصان رساں ثابت ہوتی ہیں۔مثلاً پنجابیوں کو اگر کہا جائے گھر میں ہر جگہ نہیں تھوکنا چاہئے تو وہ کہیں گے اس میں کیا حرج ہے۔اور پنجابی میں تو ایک مثل بھی ہے جولوگوں کی پہلی حالت کا خوب نقشہ کھینچتی ہے۔کہتے ہیں پر ایا گھر تھکنے دا بھی ڈر یعنی دوسرے کے گھر میں تھوکتے ہوئے بھی ڈر آتا ہے۔گویا ان کے نزدیک یہ بہت معمولی بات ہے حالانکہ سائنس نے ثابت کر دیا ہے کہ تھوکنا سخت خطرناک ہے اور اپنے گھر میں بھی نہیں تھوکنا چاہئے۔مگر ان کے خیال میں یہ تھا کہ اپنے گھر میں تو جتنا کوئی