زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 10

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 10 جلد اول اہل یورپ کو دیں۔اب تک وہ خدا تعالیٰ پر بھی اعتراض کر لینا جائز سمجھتے ہیں اور اپنے خیال کے مطابق مذہب کو رکھنا چاہتے ہیں۔ان کو بتائیں کہ سب دنیا پر حکومت کرو مگر خدا کی حکومت کو اپنے نفس پر قبول کرو۔اس بات کی پرواہ نہ کریں کہ کس قدر لوگ آپ کی بات مانتے ہیں۔بلکہ یہ خیال رکھیں کہ کیسے لوگ آپ کو مانتے ہیں۔اسلامی سادگی ان کی لوگوں میں پیدا کرنے کی کوشش کرو اور لفظوں سے کھینچ کر روحانیت پیدا کرنے کی طرف متوجہ ہوں۔آپ تو ایک گھوڑے پر بھی سوار نہیں ہو سکتے لیکن ایک شیر پر سوار ہونے کے لئے جاتے ہیں۔بہت ہیں جنہوں نے اس پر سوار ہونے کی کوشش کی لیکن بجائے اس کی پیٹھ پر سوار ہونے کے اس کے پیٹ میں بیٹھ گئے ہیں۔آپ دعا سے کام لیں تا یہ شیر آپ کے آگے اپنی گردن جھکا دے۔ہر مشکل کے وقت دعا کریں اور خط برابر لکھتے رہیں۔میرا خط جائے یا نہ جائے آپ ہر ہفتہ مفصل خط جس میں سب حال بالتفصیل ہو لکھتے رہیں۔اگر کوئی تکلیف ہو تو خدا تعالیٰ سے دعا کریں۔اگر کوئی بات کرنی ہو اور فوری جواب کی ضرورت ہو خط لکھ کر ڈال دیں اور خاص طور پر دعا کریں۔تعجب نہ کریں اگر خط کے پہنچتے ہی یا نہ پہنچنے سے پہلے ہی جواب مل جائے۔خدا کی قدرتیں وسیع اور اس کی طاقت بے انتہا ہے۔اپنے اندر تصوف کا رنگ پیدا کریں۔کم خوردن، کم گفتن ، کم خفتن عمدہ نسخہ ہے۔تہجد ایک بڑا ہتھیار ہے۔یورپ کا اثر اس سے محروم رکھتا ہے کیونکہ لوگ ایک بجے سوتے اور آٹھ بجے اٹھتے ہیں۔آپ عشاء کے ساتھ سو جائیں تبلیغ میں حرج ہو گا لیکن یہ نقصان دوسری طرح خدا تعالیٰ پورا کر دے گا۔ان کو سننے والے لوگ آپ تک کھینچے چلے آئیں گے۔چھوٹے چھوٹے گاؤں میں غریبوں اور زمینداروں کو اور محنت پیشہ لوگوں کو جا کر تبلیغ کریں۔یہ لوگ حق کو جلد قبول کریں گے اور جلد اپنے اندر روحانیت پیدا کریں گے۔کیونکہ نسبتاً بہت سادہ ہوتے ہیں اور گاؤں کے لوگ حق کو مضبوطی سے قبول کیا کرتے ہیں۔کسی چھوٹے گاؤں میں کسی سادہ علاقہ میں لندن سے دور جا کر ایک دو ماہ رہیں اور دعاؤں سے کام لیتے ہوئے تبلیغ کریں۔