زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 137
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 137 جلد اول کے آپ نے اپنے کام کو نہیں چھوڑا۔یہی وجہ ہے کہ ایک دن وہ سب گردنیں جھکا کر آگئے۔عمرو بن العاص کہتے ہیں کہ ایک زمانہ وہ تھا کہ جب مجھے رسول کریم ہی ہے۔کر قابل نفرت اور آپ سے زیادہ بدتر کوئی نظر نہ آتا تھا۔میں نہیں چاہتا تھا کہ ایک چھت مجھے اور آپ کو جمع کرے۔میں پسند نہیں کرتا تھا کہ میں اور آپ ایک زمین پر رہیں۔اور میں آپ کے چہرہ کو بسبب نفرت دیکھ نہ سکتا تھا۔لیکن پھر ایک وہ زمانہ آیا کہ مجھے آپ جیسا محبوب ہی کوئی نظر نہ آتا تھا۔اور آپ کی محبت کا رعب اتنا تھا کہ میں آپ کو نظر بھر کر دیکھ نہ سکا۔اب آج اگر کوئی مجھ سے آپ کا حلیہ پوچھے تو میں ہر گز بتا نہیں سکتا۔3 دیکھو اتنی عداوت والا انسان کس قدر محبت میں ترقی کرتا ہے کہ آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا تو کیا ہوسکتا ہے کہ جو تم کو ایک دفعہ کہہ دے کہ ہم تمہاری بات نہیں سنتے تم اس کو چھوڑ دو؟ ہر گز نہیں۔تم جبر سے سناؤ ( ڈنڈے، سونے کا جبر نہیں) اور اپنے دل میں ان کی محبت پیدا کرو تا ان کی اندرونی محبت جوش مارے اور وہ تم سے آ کر لپٹ جائیں۔لبید ایک بڑے شاعر تھے ساری عمر آپ نے عورتوں کے حسن کی تعریف اور اونٹنیوں کی کی تعریف میں ہی لگا دی تھی لیکن جب قرآن کریم کو پڑھا اور اس کی محبت دل میں پیدا کی ہوئی تو ایسی کہ ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کسی افسر کو لکھا کہ اپنے علاقہ کے شاعروں کا کلام بھیجو ( حضرت عمرؓ کو شعر بہت پسند تھے ) اس علاقہ میں ایک لبید اور ایک اور شاعر تھے۔افسر نے دونوں کو بلایا اور خلیفہ کا حکم سنا کر کہا کہ اپنا اپنا کلام پیش کرو۔دوسرے شاعر نے تو ایک قصیدہ تیار کیا۔لبید پہلے تو انکار کرتے رہے جب اس نے بہت اصرار کیا تو آپ نے کہا اچھا لو سنو۔الم ذلِكَ الْكِتُبُ 4 الخ اس نے کہا یہ کیا ؟ یہ تو قرآن کریم ہے تم شعر سناؤ۔انہوں نے کہا بس مجھے تو یہی کلام آتا ہے، یہی شعر ہے، یہی نثر ہے۔اس نے کہا خلیفہ کا حکم ہے تم کو سنانا ہوگا۔انہوں نے پھر وہی پڑھ دیا۔دو تین دفعہ جب ایسا ہوا تو اس نے کہا کہ سناؤ ورنہ میں تمہارا وظیفہ کاٹ دوں گا۔انہوں نے کہا بے شک کاٹ دو۔مجھے اب اور کلام آتا ہی نہیں صرف یہی آتا ہے۔انہوں نے ان کا وظیفہ کاٹ دیا اور