زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 133
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 133 جلد اول کہ لوگ دنیا کے لئے بھی قربانی کرتے ہیں۔اس کی بہت سی مثالیں ہیں۔لوگ قید ہوتے ہیں، مال چھوڑتے ہیں تا کہ لیڈر کہلائیں۔جو بات اللہ کی جماعت میں ہوتی ہے وہ اخلاص ہوتا ہے جس کے سبب سے ان کے کام میں برکت ڈالی جاتی ہے اور وہ تھوڑے ہو کر غالب ہو جاتے ہیں۔وہ تھوڑی قربانی کرتے ہیں مگر چونکہ اخلاص سے کرتے ہیں اس کے لئے اللہ تعالیٰ اس کو شمر ور بنا دیتا ہے۔دنیا میں چھوٹی جماعتیں اگر بڑی قربانی کرتی ہیں تو گو وہ مقابلہ کے وقت دنیا پر اپنی دھاک بٹھا دیتی ہیں مگر فنا ہو جاتی ہیں۔صرف نام پیدا کر لیتی ہیں کام نہیں کر سکتیں۔لیکن مامور کی جماعت تھوڑے کام سے کامیاب ہوتی ہے۔رسول کریم ﷺ کے صحابہ قربانی کرتے تھے تو اس کے نتیجے بہت بڑے بڑے نکلتے تھے۔ان کے ساتھ جو مد دتھی وہ اللہ سے تھی۔ہماری جماعت سے جو قربانیاں ہوتی ہیں گو بڑی ہیں مگر دشمن کے مقابلہ میں کچھ حیثیت نہیں رکھتیں۔ہم میں سے اگر ہزار کا ہزار بھی قربانی کرتا ہے اور ان میں سے سو میں سے ایک تب بھی وہ زیادہ ہوتے ہیں۔غیر احمدیوں کے مولوی ہزاروں ہیں۔اگر صرف مولوی ملاں ہی جمع کئے جائیں تو ان کی تعداد ہماری جماعت سے کہیں بڑھ کر ہو۔ہمارے سب مل کر بھی خواہ وکیل ہوں، بیرسٹر ہوں ، ڈاکٹر ہوں یا دوسرے لوگ ان کی تعداد کو نہیں پہنچ سکتے مگر پھر بھی ان کی خدمات کا وہ نتیجہ نہیں نکلتا جو ہمارا نکلتا ہے کام سارے کرتے ہیں۔امریکہ میں مسلمان لاکھوں ہیں۔عرب ہیں جن کی زبان میں قرآن کریم نازل ہوا جن میں رسول کریم ﷺ مبعوث ہوئے وہ کام کرتے ہیں ان کا کوئی اثر نہیں کوئی غلبہ نہیں۔لیکن اکیلا مفتی محمد صادق چلا جاتا ہے تو تمام امریکہ میں شور پڑ جاتا ہے۔اگر کوئی کہے کہ مفتی صاحب سارا وقت لگاتے ہیں۔وہ سارا وقت نہیں خرچ کرتے۔لیکن وہ تو لاکھوں ہیں اگر ایک ایک منٹ بھی صرف کریں تو بھی مفتی صاحب کے وقت سے کہیں بڑھ کر بن سکتا ہے۔پس یہ وجہ نہیں کہ وہ کام نہیں کرتے کام تو کرتے ہیں مگر اخلاص نہیں۔گو کام زیادہ ہے یہی وجہ ہے کہ ایک مفتی کو ان پر فوقیت مل جاتی ہے۔