زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 7

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 7 جلد اول سیکنڈ کے لئے بھی ان کے رعب میں نہیں آ سکتا۔اور جب وہ قرآن کریم کی عینک لگا کر ان کی تہذیب کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ تہذیب در حقیقت بدتہذیبی نظر آتی ہے اور چمکنے والے موتی سیپ کی ہڈیوں سے زیادہ قیمتی ثابت نہیں ہوتے۔پس اس بات کو خوب یاد رکھیں اور یورپ کے علوم سے گھبرائیں نہیں۔جب ان کی عظمت دل پر اثر کرنے لگے تو قرآن کریم اور کتب حضرت مسیح موعود کا مطالعہ کریں۔ان میں آپ کو وہ علوم ملیں گے کہ وہ اثر جاتا رہے گا۔آپ اس بات کو خوب یا درکھیں کہ یورپ کو فتح کرنے جاتے ہیں نہ کہ مفتوح ہونے۔اس کے دعوؤں سے ڈریں نہیں کہ ان کے دعوؤں کے نیچے کوئی دلیل پوشیدہ نہیں۔یورپ کی ہوا کے آگے نہ گریں بلکہ اہل یورپ کو اسلامی تہذیب کی طرف لانے کی کوشش کریں۔مگر یاد رکھیں کہ آنحضرت ﷺ کا حکم ہے بَشِرُوا وَلَا تُنفِرُوا 1 یعنی لوگوں کو بشارت دینا، ڈرا نا نہیں۔ہر ایک بات نرمی سے ہونی چاہئے۔میرا اس سے یہ مطلب نہیں کہ صداقت کو چھپائیں۔اگر آپ ایسا کریں تو یہ اپنے کام کو تباہ کرنے کے برابر ہو گا۔حق کے اظہار سے کبھی نہ ڈریں۔میرا اس سے یہ مطلب ہے کہ یورپ بعض کمزوریوں میں مبتلا ہے اگر عقائد صحیحہ کو مان کر کوئی شخص اسلام میں داخل ہونا چاہتا ہے لیکن بعض عادتوں کو چھوڑ نہیں سکتا تو یہ نہیں کہ اسے دھکا دے دیں۔اگر وہ اسلام کی صداقت کا اقرار کرتے ہوئے اپنی غلطی کے اعتراف کے ساتھ اس کمزوری کو آہستہ آہستہ چھوڑنا چاہے تو اس سے درشتی نہ کریں۔خدا کی بادشاہت کے دروازوں کو تنگ نہ کریں۔لیکن عقائد صحیحہ کے اظہار سے کبھی نہ جھجکیں۔جو حق ہو اسے لوگوں تک ضرور پہنچا ئیں اور کبھی یہ خیال نہ کریں کہ اگر آپ حق بتائیں گے تو لوگ نہیں مانیں گے۔اگر لوگ نہ مانیں تو نہ مانیں۔لوگوں کو ایماندار بنانے کے لئے آپ خود بے ایمان کیوں ہوں۔کیسا احمق ہے وہ انسان جو ایک زہر کھانے والے انسان کو بچانے کے خیال سے خود زہر کھا لے۔سب سے اوّل انسان پر اپنے نفس کا حق ہے۔پس اگر لوگ صداقت کو سن کر قبول نہ کریں تو آپ نفس کے دھوکا میں نہ آئیں کہ آؤ میں قرآن کریم کو