زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 95

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 95 جلد اول صلى الله یہ ٹھیک بات ہے اور میں نے بارہا اس پر زور دیا ہے کہ مبلغ کا کام کسی سے منوانا نہیں بلکہ پہنچانا ہے۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ لوگ مانتے ہی نہیں۔رسول کریم ہے پہنچاتے ہی تھے منواتے نہ تھے مگر لوگ مانتے تھے۔اسی طرح حضرت مسیح موعوڈ پہنچاتے ہی تھے منواتے نہیں تھے مگر لوگ مانتے تھے۔کیوں؟ اس لئے کہ صحیح ذرائع کے ماتحت پہنچانے کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ مان لیتے ہیں۔پس ہمارے مبلغ بھی جب صحیح ذرائع پر عمل کریں گے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ لوگ نہ مانیں۔اگر ہم ان باتوں کو جو میں نے بیان کی ہیں اپنی جماعت کے ہر ایک آدمی میں پیدا کر دیں تو ہر سال ہماری جماعت پہلے کی نسبت دگنی ہو جائے۔کیونکہ کم از کم ایک شخص ایک کو تو احمدی بنا لے اور اگر اس طرح ہونے لگ جائے تو تم دیکھ سکتے ہو کہ ہماری جماعت کس قدر ترقی کر سکتی ہے۔ہمیں پچیس سال کے اندر اندر دنیا فتح ہو سکتی ہے۔اس وقت اگر ہم اپنی جماعت کو بطور تنزل ایک لاکھ ہی قرار دیں تو اگلے سال دو لاکھ ہو جائے اور اس سے اگلے سال چار لاکھ، پھر آٹھ لاکھ ، پھر سولہ لاکھ۔اس طرح سمجھ لو کہ کس قدر جلدی ترقی ہو سکتی ہے۔مگر یہ تو خیالی اندازہ ہے۔اگر اس کو چھوڑ بھی دیا جائے اور حقیقی طور پر اندازہ لگایا جائے تو دس پندرہ سال کے اندر اندر ہماری جماعت اس قدر بڑھ سکتی ہے کہ سیاسی طور پر بھی ہمیں کوئی خطرہ نہیں رہ جاتا۔مگر افسوس ہے کہ مسیح ذرائع اور اصول تبلیغ سے کام نہیں لیا جاتا۔اگر ان سے کام لیا جائے اور ان شرائط کو مد نظر رکھا جائے جو میں نے بیان کی ہیں تو قلیل عرصہ میں ہی اتنی ترقی ہو سکتی ہے کہ ہماری جماعت پہلے کی نسبت ہیں گنے ہو جائے۔اور جب جماعت بڑھ جاتی ہے تو وہ خود تبلیغ کا ذریعہ بن جاتی ہے۔اگر اس وقت ہماری جماعت ہیں لاکھ ہو جائے تو ہزاروں ایسے لوگ جو چھپے ہوئے ہیں وہ ظاہر ہو کر ہمارے ساتھ مل جائیں گے۔پس ایک انتظام اور جوش کے ساتھ کام کرنا چاہئے اور اس سال ایسے جوش سے کام کرو کہ کم از کم ہندوستان میں زلزلہ آیا ہوا معلوم ہو۔اور اگر تم اس طرح کرو گے تو پھر دیکھو گے کہ کس قدر ترقی ہوتی ہے۔“