زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 94

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 94 جلد اول کا فر بھی مومن کی طرح بننے کی خواہش کرتا ہے۔اور جب کوئی سچے دل سے خواہش کر۔تو اس کو خدا ان لوگوں میں داخل بھی کر دیتا ہے جن کے اخلاق اسے پسند آتے ہیں۔بائیسویں ہدایت بائیسویں بات مبلغ کے کامیاب ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس میں ایک حیات اور حرکت ہو۔یعنی اس میں چستی، چالا کی اور ہوشیاری پائی جائے۔حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کہ تم جہاں جاؤ آگ لگا دو تا کہ لوگ جاگیں اور تمہاری باتیں سنیں۔پس چاہئے کہ مبلغ کے اپنے جسم میں ایک ایسا جوش اور ولولہ پیدا ہو جائے کہ جو زلزلہ کی طرح اس کے جسم کو ہلا دے اور وہ دوسروں میں زلزلہ پیدا کر دے۔مبلغ جس گاؤں یا شہر میں جائے وہ سو نہ سکے بلکہ بیدار ہو جائے۔مگر اب تو ایسا ہوتا ہے کہ کبھی مبلغ ایک ایک مہینہ کسی جگہ رہ کر آ جاتا ہے اور وہاں کے لوگوں کو اتنا بھی معلوم نہیں ہوتا کہ یہاں کوئی آیا تھا۔ان ہدایات پر عمل کرو یہ بائیں موٹی موٹی باتیں ہیں مگر اس لئے نہیں کہ ان کوسنو اور کان سے نکال دو بلکہ اس لئے ہیں کہ ان پر عمل کرو۔ہماری ترقی اسی لئے رکی ہوئی ہے کہ صحیح ذرائع سے کام نہیں لیا جا رہا۔اخلاق اور چیز ہے لیکن کام کو صحیح ذرائع اور طریق سے کرنا اور چیز۔دیکھو اگر کوئی شخص بڑے اخلاص کے ساتھ مسجد کے پیچھے مرزا نظام الدین صاحب کے مکان کی طرف بیٹھ رہے اور کہے کہ میں اخلاص کے ذریعہ مسجد میں داخل ہو جاؤں گا تو داخل نہیں ہو سکے گا۔لیکن اگر کسی میں اخلاص نہ بھی ہو اور وہ مسجد میں آنے کا راستہ جانتا ہو تو آ جائے گا۔ہاں جب یہ دونوں باتیں مل جائیں یعنی اخلاص بھی ہو اور صیح طریق پر عمل بھی ہو تب بہت بڑی کامیابی حاصل ہوسکتی ہے۔پس یہ ہدایتیں جو میں نے بتائی ہیں ان پر عمل کرو تا کہ تبلیغ صحیح طریق کے ماتحت ہو۔ہدایتیں دفتر تالیف میں محفوظ رہیں گی اور ان کے مطابق دیکھا جائے گا کہ کس کس مبلغ نے ان پر کتنا کتنا عمل کیا ہے۔