حضرت زینب ؓ بن جحش

by Other Authors

Page 24 of 39

حضرت زینب ؓ بن جحش — Page 24

حضرت زینب 24 کما تیں اُسے کھلے دل سے غریبوں اور مسکینوں کی ضروریات پوری کرنے پر خرچ کر دیتیں۔وہ مال خرچ کرنے میں جلدی کرتیں۔اور اپنی ضروریات کی بالکل پرواہ نہ کرتیں۔حضرت زینب کی دریا دلی اور سخاوت کا اندازہ اس حدیث سے بھی ہوتا ہے کہ ایک دفعہ آپ ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے کسی نے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا۔یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم الله صلى الله میں سے سب سے پہلے کون وفات پا کر آپ ﷺ سے جا ملے گی آپ ملے نے ارشاد فرمایا:۔66 تم میں سے جو سب سے زیادہ لمبے ہاتھوں والی ہے۔(10) پیارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کا لمبے ہاتھوں والی کہنے سے مطلب یہ تھا کہ جو غریبوں کی زیادہ مدد کرتی ہوگی اور اپنا مال سب بیویوں سے زیادہ اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کرتی ہوگی۔لیکن ہوا یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکباز بیویاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کو نہ سمجھ سکیں حضو ر ہی ہے کی وفات کے بعد تمام ازواج کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کا اس قدر شوق تھا کہ موت کی کسی کو ہرگز کوئی پرواہ نہ تھی اور ہر ایک بیوی یہ چاہتی تھی کہ وہ اپنے پیارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کو جا کر سب سے پہلے ملے۔