حضرت زینب ؓ بن جحش — Page 12
حضرت زینب 12 کرے جس کے کرنے کا اللہ تعالی حکم دے اور اُس کام سے رُک جائے جس کام کو کرنے سے خدا تعالیٰ منع کرے گویا ہر نیک کام کرنے والا اور بُرے کام کو چھوڑنے والا متقی کہلائے گا۔ہمارے پیارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم نے تقویٰ کے لحاظ سے لوگوں کے درمیان عملی طور پر برابری کا رشتہ قائم کرنے کا سوچا اور پھر عمل کر کے دکھلایا بھی۔اس زمانے میں عرب میں غلام رکھنے کا رواج بہت تھا جس طرح ہم لوگ گھروں میں نو کر کام کے لئے رکھ لیتے ہیں اور انہیں تنخواہ بھی دیتے ہیں اور کھانا بھی ،مگر وہ اپنی مرضی کا مالک ہوتا ہے جس دن دل چاہے کام کرتا ہے دل نہ چاہے تو نہیں کرتا۔لیکن اُس زمانے میں امیر لوگ غلام خرید لیتے تھے۔غریب لوگ اپنے بچوں کو پیسوں کی خاطر بیچ دیتے تھے اور پھر وہ ساری زندگی اپنے خریدار کے غلام بن جاتے تھے۔انہیں کوئی تنخواہ نہیں ملتی تھی۔صرف روٹی ، کپڑا تھوڑا بہت مل جاتا تھا اور اگر ان کی اپنی مرضی نہ بھی ہو تب بھی انہیں اپنے مالک کا کام کرنا ہوتا تھا۔لیکن ہمارے پیارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بالکل پسند نہیں تھی بلکہ آپ ﷺ فرماتے تھے کہ تمام انسان اللہ کی مخلوق