ظہورِ امام مہدی ؑ — Page 9
266 فَلْيَقْرَتُهُ مِنِي السَّلَامَ۔اُسے میری طرف سے سلام کہے! (در منثور جلد ۲ صفحه ۴۴۵، بحار الانوار جلد ۱۳ صفحه ۱۸۳ مطبوعه ایران) مخفقه عقیده شیعہ اور سنی کتب کی رُو سے امت محمدیہ کا ہمیشہ سے یہ متفقہ عقیدہ ہے کہ جب وہ مَوْعُود ظاہر ہو تو مسلمان پر اس کی بیعت کرنا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسے سلام پہنچانا از حد ضروری ہے۔امت محمدیہ کی امت موسوی سے مشابہت کے باعث اس موعود کا تیرھویں صدی ہجری کے آخر یا چودھویں صدی ہجری کے سر پر عیسی ابن مریم کے رنگ میں ہو کر آنا مقدر تھا تا اسلام کو ادیانِ عالم پر غالب کر دیا جائے جس کا وعدہ قرآنی آیت:۔هُوَ الَّذِى اَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (سورة الصف ) میں کیا گیا۔صلحائے امت آنے والے موعود کو اسی آیت کا مصداق قرار دے کر مختلف ناموں سے ذکر کرتے رہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنے والا مسیح، مہدی ، امام یا قائم آلِ محمد در حقیقت ایک ہی وجود ہے۔(۱) تفسیر ابن جریر میں لکھا ہے : " هذَا عِنْدَ خُرُوجِ الْمَهْدِي “۔کہ اس آیت میں مذکور غلبہ اسلام مہدی کے زمانے میں ہوگا۔(ب) تفسیر جامع البیان جلد ۲۹ میں ہے:۔وَذُلِكَ عِنْدَنُزُولِ عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ “۔کہ یہ غلبہ عیسی ابن مریم کے نزول پر ہوگا۔(ج) شیعہ حضرات کی معروف کتاب بحارالانوارجلد ۱۳ صفحہ ۱۳ پر لکھا ہے:۔( 9 }