ظہورِ امام مہدی ؑ — Page 48
اس حدیث سے مراد دمشق کے مشرق میں نزولِ مسیح ہے۔خاص دمشق نہیں۔اسی لئے خاص جائے نزول کے بارے میں اختلاف رہا ہے۔چنانچہ حافظ ابن کثیر نے فرمایا ہے کہ احادیث میں نزول مسیح کے لئے کئی مقامات کا ذکر ہے۔( حاشیہ ابن ماجہ جلد ۲ باب فتنہ الدجال و خروج عیسی ) ۲ - عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِصَابَةُ تَغْرُو الْهِنْدَ وَهِيَ تَكُونُ مَعَ الْمَهْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک جماعت ہندوستان میں ( مخالفین اسلام سے ) جہاد کرے گی۔اور وہ مہدی کے ساتھ ہوگی۔اس مہدی کا نام احمد ہوگا۔( رواه البخاری فی تاریخہ ) ٣- قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ نَاسٌ مِنَ الْمَشْرِقِ فَيُوطِنُونَ الْمَهْدِي يَعْنِي سُلْطَانَهُ - آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مشرق سے ایسے لوگ نکلیں گے جو مہدی کے لئے جگہ بتائیں گے جو ان کا بادشاہ ہوگا۔یعنی اس کی تائید کریں گے اور اس کے کام میں مدد دیں گے۔(بحارالانوار جلد ۱۳ صفحه ۲۱ وابوداؤد جلد ۲ باب خروج المهدی و ابن ماجہ مصری صفحه ۵۱۹) ۴- قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِصَابَتَانِ مِنْ أُمَّتِي أَحْرَزَهُمَا اللهُ مِنَ النَّارِ عِصَابَةٌ تَغْزُوالْهِنْدَوَعِصَابَةٌ تَكُونُ مَعَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ۔(مسند احمد بن حنبل جلد ۵ صفحہ ۷۸ و نسائی جلد ۲ صفحہ ۵۲ باب غزوۃ الہند ) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اُمت کے دو گروہ ہیں ،جن ۴۴۸