ظہورِ امام مہدی ؑ — Page 44
(1) بعض غیر مسلم حضرات کے اندازے ، عقائد اور بیانات: تمام اہل مذاہب آخری زمانے میں آنے والے ایک موعود کی خبر دیتے رہے ہیں۔اکثر کا عقیدہ اگر چہ اپنے ہی امام۔نبی یا مقتداء کی بعثت ثانی“ کے رنگ میں آنے کا تھا۔تا ہم اُن کے نزدیک بھی اس موعود (بروزی رنگ میں مسیح ، کرشن وغیرہ) کے ظاہر ہونے کا وقت چودھویں صدی ہجری ہی بنتا ہے۔عہد نامہ قدیم کی کتاب دانی ایل میں آخری زمانے کے متعلق حضرت دانی ایل کے مکاشفہ کا ذکر ہے۔جس میں خدا نے کئی باتوں کا انکشاف کیا اور اس میں لکھا ہے: ایک ہزار دوسوتو ے (۱۲۹۰ ) دن ہوں گے۔مبارک وہ جو انتظار کرتا ہے اور ایک ہزار تین صد پینتیس (۱۳۳۵) روز تک آتا ہے۔( دانی ایل 9-12/12) مشہور مسیحی سکالر مسٹر ہے۔بی۔ڈمبل اپنی کتاب THE APPOINTED) (TIME مطبوعہ لندن ۱۸۹۶ صفحہ ۱۶ پر لکھتے ہیں:۔"THE NEW ERA ALL THE NINE METHODS IN BOTH DIAGRAMS IS 58961 OUR 18981 " ۱/۴ یعنی سب نوشتوں اور قاعدوں کی رو سے نیا دور ( آمد مسیح کا ) آدم سے ۵۸۹۶۱/۲ ہے جو ہمارے حساب سے ( سن عیسوی میں ) ۴ ۱۸۹۸ ء ہے۔۔عیسائی محققین کا ایک بورڈ متعد دصحیفوں اور پیشگوئیوں پر غور کرتا رہا اور پھر ۸۸۴! ء میں مکمیل دان“ نامی کتاب شائع کی جس میں گہرے غور وفکر کے بعد مسیح موعود کا ظہور ۱۸۷۳ء میں قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ وہ ۱۹۱۴ء تک اپنے مقدسوں کو جمع کرتا رہے گا۔۔ایک اور عیسائی اسکالر نے لکھا ہے:۔۴۴۴