ظہورِ امام مہدی ؑ — Page 39
بر ہر تقدیر ظہور مہدی، بر سر صد آئندہ احتمال قوی دارد ( حج الکرامه صفحه ۵۲) ۲۰۔حضرت بابا گورونانک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: آون اُٹھہتر سے جان ستانویں ہور بھی اُٹھ سی مرد کا چیلا‘ گرنتھ صاحب تنگ محلہ صفحہ ۱۳۷) یعنی مرد کامل ( محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم جو طہ ہیں ) کا ایک شاگرد رشید اٹھے گا۔جب ۱۸۷۸ آئے گا اور ۱۸۹۷ گزر جائے گا یعنی ۱۸۲۱ ء سے ۱۸۴۰ کے درمیان آنے والے مرد کا چیلا آئے گا۔۲۱ - اثنا عشری کے بعض لوگوں کا خیال ہے:۔انیسویں یا بیسویں صدی کا آغاز ہی امام مہدی علیہ السلام کا زمانہ خروج ہے۔۱۹۱۳ ء ایسا زمانہ ہے جو خدا کے جنگی قانون کے اجراء کا خواہاں ہے۔اس وقت ایسی طاقت کی ضرورت ہے جو مشینوں کی خدائی کو توڑے، جسم پرستی کو نیست و نابود کرے۔انسان کو جسم پرستی سے آزاد کر کے روحانیت کے میدان میں لائے۔۔۔یہی طاقت اصطلاح اسلام میں جناب امام علیہ السلام ہے۔“ (رساله برهان بابت نومبر ۱۹۱۳ء صفحه ۵۲،۴۷) زیر ادارت مولوی سید محمد سبطین صاحب سرسوی مولوی فاضل و نشی فاضل) ۲۲۔شاہ عبد العزیز صاحب نے تحفہ اثنا عشریہ میں لکھا ہے کہ: ” بعد بارہ سو ہجری کے حضرت مہدی کا انتظار چاہئیے اور شروع صدی میں حضرت کی پیدائش ہے۔“ ( اربعین فی احوال المهد تین مطبوعه مصری گنج کلکتہ ۲۲۸ ہجری مصنفہ حضرت سید اسمعیل شہید کا آخری حصہ) سیدا ۲۳۔الشیخ علی اصغر البر وجروی جنہیں بڑے بڑے خطاب دیئے گئے ہیں اور جو بہت سی کتب کے مصنف ہیں ، اپنی کتاب ”نور الانوار میں ” کیفیات مہدی علیہ السلام کے