ظہورِ امام مہدی ؑ — Page 33
گا۔کہتے ہیں کہ اس حدیث میں طلوع شمس سے مراد امام مہدی کا ظہور ہے۔دراصل تیسری صدی ہجری میں اسمعیلیوں نے مذکورہ بالا تعبیر حدیث سے لفظ الف حذف کر کے کی۔حالانکہ یہ حض عجلت بازی تھی۔اصل الفاظ تو تیرھویں صدی پر طلوع ہونے کے ہیں۔۶۔احادیث میں جو علامتیں بیان ہیں اُن کے مطابق امام مہدی (مسیح) نے غلبہ عیسائیت کے وقت آنا تھا کیونکہ اُس کا کام يَكْسِرُ الصَّليب بتایا گیا تھا۔اور عیسائیت کا یہ غلبہ تیرھویں صدی ہجری میں اپنی انتہاء کو پہنچ گیا۔لہذا ان حدیثوں کا تقاضا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام تیرھویں صدی کے اخیر یا چودھویں صدی ہجری کے آغاز پر ظاہر ہوتے۔******** ( ج ) علماء و بزرگانِ اُمت کے رویا، کشوف اور بیانات کی رو سے ظہور امام مہدی علیہ السلام کے وقت کی تعیین ! ا۔حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ مجد دصدی دوازدہم نے فرمایا:۔عَلَّمَنِي رَبِّ جَلَّ جَلَالُهُ أَنَّ الْقِيْمَةَ قَدِ اقْتَرَبَتْ وَالْمَهْدِئَ تَهَيَّاً لِلْخُرُوج " (تفهيمات الهیه جلد ۲ صفحه ۱۲۳) یعنی میرے رب بڑی عظمت والے نے مجھے بتایا ہے کہ قیامت قریب ہے اور