یادوں کے نقوش — Page 9
xii xi لفظ پیش لـ 1956 ء کی بات ہے گورنمنٹ کالج ڈیرہ غازی خان کے ایک احمدی طالب علم فیض محمد خان صاحب کی درخواست پر حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ نے جماعت احمدیہ ضلع ڈیرہ غازی خان کے جلسہ سالانہ کے لئے ایک روح پرور پیغام ارسال فرمایا۔جس کے آخر میں حضور نے تحریر فرمایا۔میں آپ سے کہتا ہوں کہ آپ میں سے ہر شخص۔۔۔۔۔قرآنی حکم کے مطابق کہ جَاهِدُهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا (الفرقان (53) قرآن کے ذریعہ ساری دنیا سے عمل کروائے تا کہ آپ کا ضلع سے معنوں میں ڈیرہ غازی خان ہو جائے۔“ تاریخ احمدیت جلد 18 صفحه 95-396) حضور کی اس مبارک خواہش کو پورا کرنے کے لئے ڈیرہ غازی خان سے بہت سے مخلص اور فدائی خاندانوں نے قرآن کریم کی تعلیم کو دنیا تک پہنچانے کا علم بلند کیا۔ان میں سے ایک مکرم مولا نا عبدالرحمن صاحب مبشر فاضل سابق امیر جماعت ڈی جی خان تھے۔جن کو حضور کا احباب جماعت ڈیرہ غازی خان کے نام مندرجہ بالا مبارک پیغام جلسہ سالانہ پر پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی۔آپ نے اسلام اور احمدیت کا غیروں کو پیغام دینے اور اپنوں کی تعلیم و تربیت کے لئے مختلف عناوین پر 32 معرکۃ الآراء کتب تصنیف کیں۔جن میں ایک قرآن کریم کا لفظی اور معنوی ترجمہ ہے جو بہت بڑا کارنامہ ہے۔سرائیکی خطہ سے ایک بزرگ مکرم مولا نا خان محمد صاحب سابق امیر ضلع ڈیرہ غازی خان تھے جن کو مکرم رفیق احمد صاحب نعیم کے ساتھ مل کر سرائیکی زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ کرنے کی توفیق ملی۔اسی طرح ایک خاندان ( جس کا تعلق اس کتاب سے ہے جس کے بارہ میں مجھے کچھ لکھنے کو کہا گیا ہے ) حضرت حافظ فتح محمد خان صاحب مندرانی رفیق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہے۔جس کے افراد نے آج تک قرآنی جہاد کے علم کو بلند رکھا اور اسے بلند سے بلند تر کرنے کے لئے سعی پیہم میں مشغول ہے۔حضرت حافظ فتح محمد خان صاحب مندرانی کو ان کے استاد حضرت میاں رانجھا خان صاحب نے حضرت امام مہدی کے آنے کی اطلاع کر دی تھی اور کہا تھا کہ اب علم کے نور سے روشنی ہوتی ہے۔چنانچہ حضرت حافظ فتح محمد خان صاحب مندرانی کو حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کی آمد کا علم ہونے پر 1901ء میں بیعت کا شرف حاصل ہوا۔آپ حافظ قرآن ہونے کے علاوہ ایک جید عالم اور عربی ، فارسی، اردو اور سرائیکی زبانوں کے ماہر تھے۔آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تائید میں فارسی منظوم کلام میں کتاب بھی لکھنے کی توفیق ملی۔آپ بیت الذکر مندرانی میں احباب جماعت کو قرآن کریم کا ترجمہ بھی پڑھاتے رہے اور دینی باتوں سے روشناس بھی کراتے رہے۔احمدیت کی تائید میں مناظرے بھی کئے اور جماعت کی خاطر مخالفت بھی برداشت کی۔آپ کو مختلف لالچ دے کر احمدیت ترک کرنے کو بھی کہا گیا مگر سنت رسول پر عمل کرتے ہوئے آپ نے صاف الفاظ میں کہا۔میں اب جس مرشد کا مرید بن گیا ہوں اس کے بعد مجھے کسی اور مرشد کی ضرورت نہیں رہی۔“ (روز نامہ الفضل 10 فروری 2012ء) اس خاندان کے ایک چشم و چراغ آپ کے بیٹے حضرت مولانا ظفرمحمد صاحب ظفر فاضل تھے۔آپ کو حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب (خلیفہ امسیح الثالث ) کا ہم مکتب اور ہم جماعت ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔جامعہ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد آپ کچھ عرصہ بطور مربی سلسلہ خدمات بجالاتے رہے۔بعد ازاں ایک