یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 10 of 137

یادوں کے نقوش — Page 10

xiv xiii لمبا عرصہ مدرسہ احمدیہ میں بطور استاد کام کیا۔آپ فاضل عربی ہونے کے علاوہ ادیب فاضل اور منشی فاضل بھی تھے۔آپ کو بھی سلطان القلم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غلامی میں قرآنی علم کے حکم کو اپنے قلم سے بلند کرنے کا موقعہ ملتارہا۔آپ کو سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیشتر کتب کا عربی ترجمہ کرنے کی سعادت کے علاوہ پانچ کتب بھی تصنیف کرنے کی توفیق ملی جن میں معجزات القرآن ، قرآن زمانے کے آئینہ میں اور ہمارا قرآن اور اس کا اسلوب بیان ، بہت نمایاں ہیں۔آپ کو حروف مقطعات سے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب اور حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے خلیفہ ہونے کا نتیجہ اخذ کرنے کی توفیق بھی ملی۔نیز سورہ نمل میں لفظ طد حد سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا کہ پندرھویں صدی میں جماعت احمدیہ کا براڈ کاسٹنگ اسٹیشن بھی ہوگا۔(روز نامہ الفضل 2 ستمبر 2004ء) حضرت حافظ فتح محمد خان صاحب مندرانی کی احمدیت کی خاطر علمی و قلمی کاوشوں کا سلسلہ نسل در نسل جاری ہے۔آپ کے پوتے مکرم ناصر احمد صاحب ظفر جو اپنے نام ناصر کی مناسبت سے ہمیشہ صف اول میں حضرت احمد کے جانثار، مددگار کے طور پر ظفر کی مناسبت سے کامیاب ہوئے۔آپ بے پناہ خوبیوں کے مالک تھے۔آپ کے اندرا نتظامی صلاحیتوں کے علاوہ ادبی اور قلمی صلاحیتیں بھی موجود تھیں۔جدا گانہ طرز انتخاب میں مشورہ لینے کا معاملہ ہو یا بلدیہ ربوہ کا انتخاب آپ کی معاونت نمایاں رہی۔آپ لوکل انجمن احمد یہ ربوہ کے پہلے سیکرٹری امور عامہ تھے آپ صائب الرائے تھے۔ایک دفعہ آپ کے ابا جان نے حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ سے کسی معاملہ میں مشورہ طلب فرمایا اور ساتھ اپنے بیٹے ناصر احمد صاحب ظفر کا خط بھی بھجوا دیا۔جس پر پرائیویٹ سیکرٹری نے تحریر فرمایا کہ نیز حضور فرماتے ہیں کہ عزیز ناصر احمد کی رائے صائب ہے“ زیر نظر کتاب مرحوم ناصر احمد صاحب ظفر کے ان مضامین پر مشتمل ہے جو آپ نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادِ اذْكُرُوا مَوْتَاكُمُ بِالْخَيْرِ يَا أَذْكُرُوا مَحَاسِنَ مَوْتَاكُمْ کے تحت حضرت خلیفہ اسیح الثالث بزرگان سلسلہ اور رشتہ داروں کی یاد میں تحریر کئے اور روز نامہ الفضل کی زینت بنتے رہے۔خاکسار نے جب ان مضامین کا مطالعہ کیا تو لا ریب یہ مضامین جہاں ازدیاد علم کا باعث بنے وہاں ازدیاد ایمان کا بھی موجب ہوئے۔اس تحریر کے ابتداء میں دیئے گئے حضرت خلیفہ اسیح الثانی نوراللہ مرقدہ کے پیغام پر بھی پورا اترنے والے ثابت ہوئے اور علامہ علی بن سلطان محمد القاری نے مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح میں خَيْرُكُم خَيْرُكُمْ لِاَهْلِهِ وَاَنَا خَيْرُكُمْ لاَ هُلِي وَإِذَامَاتَ صَاحِبُكُمْ فَدَعَوْهُ کے تحت حديث أذْكُرُوا مَوْتَاكُمُ بِالْخَيْر درج کی ہے۔اس کے حاشیہ میں آپ نے وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اہل سے مراد ازواج عزیز واقارب، بلکہ اجنبی اور پرائے لوگ بھی مراد ہیں کیونکہ وہ اس زمانہ کا حصہ ہیں جس میں آپ رہ رہے ہیں۔اس لئے زندوں کے ساتھ حسن سلوک کرو اور مُردوں کے اخلاق و محاسن کا ذکر کیا کرو۔( مرقاة المصابيح شرح مشکوۃ المصابیح کتاب النکاح باب عشرة النساء ومالكل واحدة من الحقوق ) اس تناظر میں اگر اپنے مرحوم بھائی کے مضامین کو دیکھا جائے تو آپ نے اس حدیث پر عمل کو خوب نبھایا۔اور جہاں تک ہوسکا اپنے ذہن میں موجود کونوں کھدروں سے باتیں نکال کر ضبط تحریر میں لائے اور تا قیامت ان عظیم مرحوم بھائیوں اور بہنوں کے لئے مخلوق کی دعاؤں کو جذب کرنے کا موجب بنے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے۔آمین چونکہ یہ تمام کاوشیں مرحوم بھائی کی سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی نوراللہ مرقدہ