یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 59 of 137

یادوں کے نقوش — Page 59

“ 89 سے 1929ء تک آپ کو حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب (خلیفۃ المسح الثالث) کے ہم جماعت رہنے کا شرف حاصل ہوا۔1929ء میں آپ نے مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا۔1930ء 1931ء میں جامعہ احمدیہ میں مربیان کورس کرتے رہے جہاں نمایاں کامیابی حاصل کی۔اسی عرصہ میں آپ نے جامعہ احمد یہ رسالہ کے دو شمارے مرتب کئے جن میں ایک سالانہ نمبر تھا۔یہ رسالے بے حد مقبول ہوئے۔اسی دوران والدین کا انتقال ہو گیا اور پھر آپ مستقل قادیان کے ہو گئے۔جماعتی خدمات جامعہ احمدیہ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد بہاولپور میں بطور مربی مقرر کئے گئے۔جہاں آپ نے کچھ عرصہ کام کیا یہاں تک کہ آپ کو مدرسہ احمدیہ میں بطور استاد متعین کیا گیا۔آپ نے تدریسی فرائض 1935 ء تک سرانجام دیئے۔1934ء میں آپ حضرت خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ کے اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری رہے۔1937ء میں حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کی زیر نگرانی انچارج کار خاص رہے۔1938ء میں نصرت گرلز ہائی سکول قادیان میں بطور معلم کام کیا۔اس دوران آپ بطور قاضی سلسلہ بھی فرائض سرانجام دیتے رہے۔مارچ1939ء سے مارچ 1944 ء تک اپنے وطن میں قیام پذیر رہے جبکہ اس دوران آپ نے ادیب فاضل منشی فاضل اور ایف اے کے امتحان پاس کئے۔1944ء میں آپ کو جامعہ احمدیہ میں پروفیسر لگا دیا گیا جہاں 1956 ء تک تدریسی خدمات سرانجام دیں اور بالآخر آنکھوں کی تکلیف کے باعث جامعہ احمدیہ سے ریٹائرڈ ہو گئے۔تاہم 1964 ء تا 1966ء کا عرصہ چوہدری احمد مختار صاحب کی خواہش پر “ 90 90 کراچی گئے اور حضرت اقدس مسیح موعود کی بعض عربی کتب کا ترجمہ کیا۔حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ نے آپ کو طالب علمی کے زمانہ میں ہی قاضی مقرر کر دیا تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک دفعہ مدرسہ احمدیہ ہائی سکول اور جامعہ احمدیہ کے طلباء نہر پر گئے وہاں جا کر لڑکوں میں کچھ کشمکش ہو گئی۔اس کی تحقیق کے لئے ایک لڑکا ہائی سکول سے ایک جامعہ احمدیہ سے اور آپ کو مدرسہ احمدیہ سے لیا گیا۔آپ کو اس سہ رکنی کمیشن کا صدر مقرر کیا گیا۔آپ نے تحقیق کے بعد جو فیصلہ حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ کی خدمت میں پیش کیا حضور اس سے بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ کوئی قاضی اس سے بہتر فیصلہ نہیں دے سکتا۔یہی وجہ تھی جس کے بعد حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نوراللہ مرقدہ نے آپ کو مستقل قاضی مقررفرما دیا۔ایک دفعہ بٹالہ کے دو دوستوں کا قضیہ قادیان دارالامان میں آیا۔پہلے۔عرصہ دفاتر میں چلتا رہا پھر قضاء میں آیا۔پہلے ایک قاضی نے فیصلہ کیا پھر دو قاضیوں نے فیصلہ کیا پھر تین قاضیوں کے بورڈ میں پیش ہوا جس میں آپ بھی شامل تھے۔دفاتر کا اور جملہ قاضیوں کا فیصلہ مدعی کے حق میں تھا لیکن آپ نے ان سب فیصلوں سے اختلاف کیا اور الگ اپنا فیصلہ لکھا۔اس پر حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ کی خدمت میں اپیل ہوئی حضور نے اسی ضمن میں شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ کو جو بعد میں ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے لاہور سے بلوایا اور آپ کا فیصلہ دکھایا محترم شیخ صاحب نے آپ کے دیئے ہوئے فیصلہ کو نافذ فرما دیا۔اس فیصلہ کے پڑھنے کے بعد محترم شیخ صاحب موصوف نے فرمایا کہ میں اس نوجوان کو دیکھنا چاہتا ہوں چنا نچہ آپ جب شیخ صاحب موصوف سے ملے تو انہوں نے آپ کو مبارکباد اور داد دی۔