یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 46 of 137

یادوں کے نقوش — Page 46

65 آپ میرے پاس آکر بیٹھیں۔اس غیر معمولی عزت افزائی کے بعد خاکسار کی والدہ محترمہ کو مخاطب ہوکر فرمایا۔بہن جی مولوی صاحب کی وفات کا بہت افسوس ہے اللہ تعالیٰ درجات بلند فرمائے اس کے بعد ذکر خیر کے طور پر مزید تعزیتی تعریفی اور ہمدردی کے کلمات کہے اور پھر ایک ایک بچے کا نام دریافت فرمایا۔یہ سلسلہ تقریباً نصف گھنٹہ جاری رہا۔اس دوران دو دفعہ حضور کے ایک صاحبزادہ نے آکر اطلاع دی کہ کھانا لگ چکا ہے آپ نے فرمایا انتظار کریں اور ہمیں وقت عطا کئے رکھا۔ی تھی اپنے جان سے عزیز پیارے حسن آقا سے خاکسار کی آخری ملاقات۔سیدنا حضرت مرزا ناصر احمد صاحب خلیفتہ اسیح الثالث کی روح پر ور اور ایمان افروز عنایات اور غیر از جماعت احباب سے شفقتوں اور ملاقاتوں کا جو سلسلہ 1960 ء سے عاجز کی موجودگی میں شروع ہوا تھا وہ 22 مئی 1982 ء تک جاری و ساری رہا۔اس کے بعد حضور اسلام آباد تشریف لے گئے۔جہاں دل کے جان لیوا حملے میں مورخہ 8/9 جون 1982ء کی درمیانی شب رات ایک بجے اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔مورخہ 9 جون 1982 ء کو آپ کا جسد مبارک ربوہ لایا گیا اور اپنے پیارے آقا کا آخری دیدار نصیب ہوا۔(روز نامہ الفضل 13 / جولائی 2002ء) “ 66