یادوں کے نقوش — Page 42
57 میرا نام مسو ہے میں کانویں والا کالا لی ہوں اور آپ کا ہمسایہ ہوں۔اگر چہ آپ میرے جیسے معمولی زمیندار کے تعاون کے محتاج تو نہیں ہیں مگر اس کے باوجود اگر میرے لائق کوئی خدمت یا حکم ہو تو آپ مجھے تعاون کرنے والا پائیں گے۔نیز فرمایا: یہ ان کے ساتھ میری پہلی ملاقات تھی جس نے میرے دل و دماغ پر گہرے نقوش چھوڑے اور مجھے ان کے اندر چھپی قائدانہ صلاحیتوں کا تاثر ملا۔اس ملاقات کا ذکر فرماتے ہوئے آپ نے پوچھا آپ کو پتہ ہے یہ صاحب کون تھے۔پھر خود ہی اس کی وضاحت یوں فرمائی۔یہ کا نویں والا کے انتہائی با اثر معروف سماجی اور سیاسی راہنما مہر محمد محسن لالی صاحب تھے جو کہ ممبر اسمبلی بھی رہے ہیں۔جب ربوہ میں پہلے جلسہ سالانہ کے لئے گندم کی فراہمی مشکل نظر آئی تو میں نے سید سعید احمد شاہ صاحب کو ( جو غالباً ناظم سپلائی تھے) سے کہا کہ آپ مہر محمد محسن صاحب کے پاس کانویں والا جائیں۔اگر چہ میری ان سے ایک ہی ملاقات ہوئی ہے لیکن اس ملاقات نے گہرے مخلصانہ نقوش چھوڑے ہیں۔آپ ان سے قیمتاً گندم کی فراہمی کے سلسلہ میں تعاون کی بات کریں۔ساتھ ہی یہ قطعی ہدایت فرمائی کہ اگر وہ گندم فراہم کرنے کا عندیہ دیں تو ان سے ریٹ دریافت کرنے کی بجائے انہیں منہ مانگی قیمت ادا کریں اور رعایت کا قطعی تقاضا نہ کریں۔چنانچہ شاہ صاحب نے کانویں والا جا کر مہر صاحب سے ملاقات کی اور میرا پیغام ان تک پہنچایا جس پر مہر صاحب نے بلا توقف کہا کہ جتنی چاہیں گندم فراہم کرادوں گا اور ٹھیٹھ ، مقامی دیہاتی زبان میں کہا کہ آپ فلاں تاریخ کو لدے لے آئیں۔یعنی ٹرک وغیرہ مقررہ تاریخ پر شاہ صاحب چند کارکنان کے ہمراہ ٹرک وغیرہ لے گئے۔جب گندم کا وزن ہو گیا تو شاہ صاحب نے رقم کی ادائیگی کا ذکر کیا۔جس پر مہر صاحب “ 58 نے جلالی لہجے میں کہا کہ آپ کے پاس رقم زیادہ ہے میں خو در بوہ حاضر ہو کر میاں صاحب سے رقم لے لوں گا۔آپ گندم لے جائیں۔لیکن شاہ صاحب کو میں نے واضح طور پر کہا ہوا تھا کہ منہ مانگی رقم دے کر آنا مگر ادھر صورت حال بالکل الٹ ہو چکی تھی۔اور شاہ صاحب اس کیفیت میں تھے کہ نہ پائے ماندن نہ جائے رفتن۔جب محترم شاہ صاحب نے گندم لے جانے میں قدرے تاخیر تذبذب سے کام لیا تو مہر صاحب نے سنجیدگی سے فرمایا۔شاہ صاحب گندم لے جائیں بصورت دیگر میں اپنے ڈرائیور کوحکم دوں گا کہ وہ ٹرک ربوہ لے جائے۔مہر صاحب کے ان دوٹوک الفاظ اور غیر لچکدار رویہ پر محترم شاہ صاحب گندم لے آئے اور سارا ماجرا کہہ سنایا۔غیر معمولی تعاون کا یہ انداز حضرت میاں صاحب کی طبیعت پر بہت گراں تھا۔میاں صاحب نے 32 مرتبہ رقم بھجوائی۔کبھی مہر صاحب نہ ملتے اور جب ملتے بڑے ادب سے کہتے مصروفیت کی وجہ سے حاضر نہیں ہو سکا میاں صاحب کی خدمت میں میر اسلام عرض کر دیں میں رقم لینے کے لئے جلد حاضر ہوں گا مگر اس کے باوجود وہ تشریف نہ لائے۔حضرت میاں صاحب پر رقم کی ادائیگی بوجھ بنی ہوئی تھی۔کچھ عرصہ بعد معلوم ہوا کہ مہر محسن صاحب بیمار ہیں اور علاج کے سلسلے میں لاہور میں مقیم ہیں۔حضرت میاں صاحب نے فرمایا:۔جب مجھے مہر صاحب کی بیماری کا علم ہوا تو جہاں ان کی صحت یابی کے لئے دعا کی توفیق پائی وہیں فوراً میں نے ایک وفد کو مہر صاحب کی عیادت کے لئے لاہور بھجوایا۔ان کے ہاتھ گندم کی قیمت سے زائد رقم بھجوائی۔وفد کو ہدایت کی کہ مہر صاحب کو میری طرف سے سلام اور عیادت کا پیغام پہنچانے کے بعد بطور عیادت جسے جھنگ کی زبان میں ” چھنی“ کہتے ہیں۔ان کے تکیہ کے پاس رکھ دیں۔چنانچہ وفد نے ایسا