یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 84 of 117

یادوں کے دریچے — Page 84

84 بہت بیمار ہوں اس لئے شامل نہ ہوسکوں گا۔مجھے شدید خواہش تھی لیکن مجبوری ہے۔جب ڈبہ کھولا تو اس میں ایک لفافہ تھا جس میں ایک بڑی رقم نوٹوں کی شکل میں تھی اور چند عطر کی نہایت خوبصورت شیشیاں جن پر موتی اور خوبصورت مینا کاری کی ہوئی تھی اور میری بیٹی کے نام آپ کا خط تھا جس میں اس کو لکھا تھا کہ بوجہ مجبوری شامل نہ ہو سکوں گا۔تمہارے لئے اپنے ہاتھ سے میں نے عطر کی شیشیاں بھری ہیں اور نقد تحفہ بھیجوار ہا ہوں۔اللہ تعالیٰ تمہاری شادی بہت با برکت فرمائے۔یہ سنا کر کہنے لگے کہ اس سے اندازہ کر لیں کہ آپ کے والد صاحب کے ہم سے کتنے گہرے اور پیار کے تعلقات تھے۔بردباری اور تحمل ذاتی رائے اور صوابدید کے متعلق ایک دلچسپ واقعہ لکھ رہا ہوں۔نواب محمد علی خان صاحب کا یہ عقیدہ تھا کہ رخصتانہ کے موقع پر لڑکی والوں کی طرف سے اگر کھانا یا چائے کا انتظام ہو تو اس کا کھانا پینا نا جائز ہے۔اور اس پر بڑی سختی سے عمل کرتے اور اپنے اہلِ خانہ سے عمل کرواتے۔( حضرت نواب محمد علی خان صاحب ہمارے بڑے پھوپھا جان تھے۔حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے شوہر اور حضرت مسیح موعود کے بڑے داماد ) نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے بطن سے ان کے بڑے بیٹے محمد احمد خان صاحب کا رشتہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ( جو حضرت مسیح موعود کے دوسرے فرزند اور حضرت مصلح موعودؓ کے بھائی تھے ) کی دختر سے طے پایا تھا۔1936 مئی کے مہینہ - میں رخصتانہ کے دن نماز عصر کے بعد حضرت نواب صاحب مع اپنے عزیزوں اور حضرت مسیح موعود کے ایک پرانے رفیق حضرت میر عنایت علی صاحب کو اپنی کوٹھی سے چلنے سے قبل ہدایت کی کہ کسی بھی فرد کو کچھ کھانے پینے کی اجازت نہیں اور جو بھی میری اس ہدایت کی تعمیل نہ کرے گا وہ میری کوٹھی میں قدم نہ رکھے۔بارات پہنچی اور جس کمرے میں بیٹھنے کا انتظام تھا اسی کے فرش پر دستر خوان بچھا ہوا تھا جس پر مختلف کھانے کی اشیاء اور چائے وغیرہ رکھی ہوئی تھی۔حضرت مصلح موعود اور باقی گھر والوں نے کھانا شروع کیا مگر نواب صاحب اور بارات کے دیگر لوگ ہاتھ باندھے خاموش بیٹھے رہے۔لیکن تھوڑی دیر بعد ہی حضرت میر عنایت علی صاحب نے پلیٹ اٹھائی اور کھانا شروع کر دیا۔کھانے سے فارغ ہونے پر حضرت مصلح موعودؓ نے دعا کروائی اور رخصتانہ کی تقریب ختم ہوئی۔جب فارغ