یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 80 of 117

یادوں کے دریچے — Page 80

ملکی مفادات کا خیال 80 صوبہ سرحد میں عبد الغفار خان صاحب کانگریس کے سرگرم رہنما اور کٹر کا نگرسی لیڈر تھے۔اس لئے عام طور پر لوگ ان کو سرحدی گاندھی کہتے تھے۔تقسیم ملک کے بعد حضرت ابا جان صوبہ سرحد کے دورہ پر تشریف لے گئے۔اصل مقصد عبد الغفار خان صاحب کو توجہ دلانا تھا کہ اب جبکہ ملک بن گیا ہے تو آپ پاکستان کی دشمنی ترک کر دیں اور قائد اعظم سے ملاقات کر کے اختلافات دور کریں اور پاکستان کے حق میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔اس غرض کے لئے قائد اعظم سے ملاقات کا میں انتظام کر دوں گا۔مگر وہ باوجود ہر ممکن کوشش کے قائد اعظم سے ملنے کے لئے تیار نہ تھے۔بہر حال حضرت صاحب کی یہ ایک کوشش تھی جو کامیاب نہ ہوسکی۔یہاں ایک بات جولکھ رہا ہوں وہ حضرت مصلح موعودؓ کے اعلیٰ مقام کے باوجود انکساری کی نشاندہی کرتی ہے۔عبدالغفار خان اپنی رہائش گاہ ولی باغ چارسدہ میں رہائش پذیر تھے۔حضرت صاحب نے جماعت سرحد کے سر کردہ اصحاب جو اونچے خاندان سے تعلق رکھتے تھے کو ہدایت فرمائی کہ وہ عبدالغفار خان صاحب سے مل کر وقت لے دیں تا میں ان کے گھر جا کر ان سے ملاقات کر سکوں۔لیکن جماعت کے یہ احباب اس امر کو اپنی غیرت کے خلاف اور بے عزتی سمجھتے تھے کہ ان کا امام عبد الغفار خان صاحب کی رہائش گاہ پر جا کران سے ملے۔اُدھر عبدالغفار خان صاحب کو اصرار تھا کہ وہ حضرت صاحب سے ان خوانین کے مکان پر جا کر نہیں ملیں گے جہاں حضرت صاحب ٹھہرے ہوئے تھے۔حضرت صاحب کا قیام چارسدہ میں اکرم خان صاحب کی کوٹھی میں تھا۔حضرت صاحب کا اصرار تھا کہ جو بھی ہو وہ خان عبدالغفار خان صاحب سے ضرور ملنا چاہتے ہیں۔آخر ایک ایسا راستہ اختیار کیا گیا جو دونوں طرف کو منظور تھا اور وہ یہ کہ عبدالغفار خان صاحب کے بڑے بھائی ڈاکٹر خان صاحب اپنی کوٹھی میں جو چند میل کے فاصلہ پر تھی حضرت صاحب اور اپنے بھائی کو دوپہر کے کھانے پر مدعو کرنے کے لئے تیار تھے۔چنانچہ اس کے مطابق ڈاکٹر خان صاحب کی کوٹھی پر ملاقات ہوئی۔عبدالرحیم درد صاحب حضرت صاحب کے پرائیویٹ سیکرٹری تھے۔وہ جب ڈاکٹر خان صاحب سے دن اور وقت طے کرنے گئے تو مجھے بھی ساتھ لے گئے۔ڈاکٹر خان صاحب کی بیگم ایک انگریز خاتون تھیں۔ڈاکٹر صاحب سے درد صاحب