یادوں کے دریچے — Page 56
یادوں کے در بیچے 56 پڑتی رہتی ہے۔آپ واپس نہ جائیں۔ایک دن میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے پاس بیٹھا تھا کہ سلسلہ کے ایک کارکن آپ سے ملنے آئے۔بیٹھتے ہی کہنے لگے کہ آج حضور نے بہت ڈانٹا ہے اور بڑی خفگی کا اظہار کیا ہے۔حالانکہ میری غلطی بہت معمولی قسم کی تھی اور اس وجہ سے مجھے بہت رنج ہے اور میں اس لئے آپ کی خدمت میں آیا ہوں۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے مسکرا کر ایک نہایت لطیف نکتہ بیان فرمایا۔آپ نے ان صاحب کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ نے شاید پیشگوئی مصلح موعود کا بغور مطالعہ نہیں کیا۔الہام میں دل کا حلیم ہو گا “ کے الفاظ ہیں۔صرف حلیم ہو گا کے الفاظ نہیں ہیں۔آپ فکر نہ کریں، آپ دیکھیں گے کہ حضرت صاحب کی شفقت اور مہربانی آپ پر پہلے سے بھی زیادہ ہو گی۔ایسا ہی ہوا اور اس واقعہ کے بعد متعدد مرتبہ انہوں نے حضور کی شفقت اور دلداری کے واقعات بیان کئے۔یہ تین مثالیں آپ کے متعلق اللہ تعالیٰ کے وعدوں میں سے ایک کہ دل کا حلیم ہوگا“ کے ثبوت میں لکھ رہا ہوں ورنہ ہزاروں ہزار احمدی آپ کے اس خلق کے ذاتی شاہد ہیں۔خوابوں کی تعبیر کی فراست تقسیم ملک کے اعلان کے بعد جو حالات پیدا ہوئے اور جن مصائب اور دکھوں کا مسلمانانِ ہند کو سامنا کرنا پڑا وہ تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔حضرت مصلح الموعود نے قادیان کے گردونواح کے مسلمانوں کی حفاظت وغیرہ کے متعلق جو ذمہ داری اٹھائی اس کے ذکر سے قبل اپنی ایک خواب کا لکھنا ضروری معلوم دیتا ہے۔کیونکہ اس کا مصلح موعود کے ذہین و فہیم ہونے کے ساتھ براہ راست تعلق ہے۔میں نے 33-1932ء میں خواب میں دیکھا کہ قادیان کے گردونواح میں شدید لڑائی ہو رہی ہے جو قادیان کے مختلف محلوں تک پہنچ گئی ہے۔ظہر کا وقت ہے میں وضو کر کے بیت المبارک میں نماز کے لئے گیا ہوں کہ کیا دیکھتا ہوں کہ مولوی عبدالرحمن جٹ صاحب ( جو اس وقت مدرسہ احمدیہ میں ابتدائی کلاسوں کے استاد بھی تھے اور احمد یہ سکول کے بورڈنگ کے سپرنٹنڈنٹ بھی۔اس کے علاوہ ان کی کوئی نمایاں جماعتی حیثیت نہ تھی۔ان دنوں تو حضرت مسیح موعود کے درجنوں رفقاء اور