یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 55 of 117

یادوں کے دریچے — Page 55

یادوں کے دریچ 55 55 خریدیں۔اس زمانہ میں جماعت کی مالی حالت بہت کمزور تھی۔انجمن اور تحریک اس قابل نہ تھے کہ اراضیات کی آبادی کے لئے پورا سرمایہ مہیا کر سکیں اس لئے ابا جان نے یہ ذمہ واری بھی اپنے پر لے لی اور فیصلہ کیا کہ اراضیات کی ترقی وغیرہ کی خود نگرانی فرمائیں گے۔اس غرض سے ایک دفتر کھولا۔اس دفتر کے ایک کارکن کی کسی غلطی کی وجہ سے اس پر ناراض ہوئے اور ڈانٹ ڈپٹ بھی کی۔کارکن سمجھتے تھے کہ ان کا کوئی قصور نہیں اس وجہ سے بہت دل برداشتہ تھے اور فیصلہ کر لیا کہ استعفیٰ دے دوں گا۔ان کا بیان ہے کہ دفتر بند ہونے کے بعد شام کو جب گھر لوٹا۔ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ باہر سے حضرت صاحب کے ایک باڈی گارڈ نے آواز دی میں سمجھا کہ حضور نے شاید بلایا ہے۔میں نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں ایک ٹرے ہے اور ایک عمدہ کپڑے سے ڈھکی ہوئی ہے۔اس نے کہا کہ حضور نے آپ کے لئے بھیجا ہے۔خاکسار نے بڑے لی۔دیکھا کہ اس میں کافی پھل اور مٹھائی ہے۔حضور کی یہ شفقت دیکھ کر تمام کوفت اور پریشانی دور ہوگئی۔بلکہ اس ناچیز پر حضور کی اس مہربانی کی وجہ سے آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔حسب معمول گرمیوں کے چند ماہ گزارنے کے لئے آپ مری پہاڑ پر تشریف رکھتے تھے۔صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے کوئی ضروری خط آپ کو ملا۔آپ نے اس کے متعلق ہدایات لکھ کر نا ئب پرائیویٹ سیکرٹری کو دیں اور ہدایت کی کہ فوری طور پر یہ خط دفتر کے کسی ذمہ دار کا رکن کے ہاتھوں ربوہ بھجوا دیں۔جو کارکن جائے اس کو ہدایت کر دیں کہ اس کا جواب لے کر فوری آئے۔اگلے دن شام تک آپ کو کوئی اطلاع نہ ملی۔مغرب کے قریب کا وقت تھا، موسلا دھار بارش ہو رہی تھی۔آپ نے ایک ملازم کو کہا کہ نائب پرائیویٹ سیکرٹری کو بلا لاؤ۔ان کے آنے پر آپ نے دریافت فرمایا کہ ابھی تک میرے اس خط کا جواب ربوہ سے نہیں آیا۔ان کا جواب تھا کہ حضور میں خط بھجوانا بھول گیا تھا اب ابھی بھجوا دیتا ہوں۔آپ نے ان کو کہا کہ میں ایسے غیر ذمہ دار کارکن کو رکھنے کو تیار نہیں۔آپ اسی وقت ربوہ واپس چلے جائیں۔وہ یہ سن کر روانہ ہو گئے۔اس وقت موسلا دھار بارش ہو رہی تھی۔چند منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ شدید بارش کا خیال آتے ہی آپ نے اپنی برساتی اور چھتری ایک پہریدار کو دی اور ہدایت کی کہ فوری چلے جاؤ اور اس کا رکن کو برساتی اور چھتری دے کر میری طرف سے کہہ دو کہ واپس کوٹھی آجائیں۔وہ واپس آئے ، اندرا اطلاع دی اور برساتی اور چھتری اندر بھجوائی تو آپ نے ملازمہ کے ہاتھ برساتی واپس بھجوا کر کہا کہ یہ میری طرف سے تحفہ ہے۔پہاڑ پر ضرورت