یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 49 of 117

یادوں کے دریچے — Page 49

49 ایک دن وہ میرے دفتر میں تشریف لائے اور کہنے لگے کہ آج آپ کو اپنے اس خط کے بارے میں اصل بات بتانے آیا ہوں۔میں نے آپ کو جو سر کے بالوں کے بارہ میں خط لکھا تھا یہ دراصل حضرت مصلح موعودؓ کے حکم سے لکھا تھا از خود نہیں لکھا تھا۔جب آپ کا جواب ملا تو آپ کا خط لے کر حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کا خط پیش کیا۔آپ نے پڑھ کر مجھے مخاطب ہو کے فرمایا آپ آئندہ مبارک کو کچھ نہ لکھیں۔اس کا پس منظر کچھ اس طرح ہے کہ ابا جان جب کبھی یہ فرماتے تھے کہ میرے سب بچے دین کی خدمت کے لئے وقف ہیں تو میں خود آپ کی خدمت میں لکھ دیتا کہ میں نے تو کبھی وقف نہیں کیا۔ایک دن میری والدہ نے مجھے بلا کر کہا کہ تم کیوں ایسے خط اپنے ابا جان کو لکھ دیتے ہو۔ان کو اس سے رنج ہوتا ہے اور اس کا اظہار بھی انہوں نے کیا ہے۔رنج کا اظہار تو آپ نے فرما دیا لیکن کبھی کوئی سرزنش نہیں فرمائی۔( کتنا حوصلہ تھا اس شخص میں ، کتنا بڑا دل سینے میں دھڑک رہا تھا ) ایک خط میں یہاں تک لکھ گیا کہ میں نے تو کبھی وقف نہیں کیا آپ یہ اعلان تو فرما سکتے ہیں کہ میری خواہش ہے کہ میرے سب لڑکے دین کی خدمت کے لئے وقف ہوں۔بیٹیوں کی واقفین سے شادی کی خواہش یہ تو نرینہ اولاد کے متعلق تھا۔اپنی بیٹیوں کے متعلق بھی آپ نے کسی تقریر میں فرمایا کہ میں اپنی سب بچیوں کی شادی واقفین زندگی سے ہی کروں گا۔لیکن ایک بیٹی کی شادی کے بعد جن کے ہونے والے شوہر واقف زندگی نہیں تھے آپ نے ایک خطبہ جمعہ میں اپنے شدید رنج کا اظہار فرمایا۔یہ خطبہ سن کر مجھے اپنے کئے پر شدید ندامت کا احساس ہوا اور وہیں عہد کیا کہ تین دن استخارہ کے بعد ابا جان کی خدمت میں اپنی زندگی وقف کرنے کا خط لکھ دوں گا۔گھر آکر میں نے اپنی بیوی آمنہ طیبہ بیگم صاحبہ سے ذکر کیا اور ان کو بھی کہا کہ وہ دعا اور استخارہ کریں کیونکہ میرے نزدیک کوئی بھی واقف زندگی پوری دلجمعی اور وقف کی روح کے مطابق خدمت نہیں کر سکتا جب تک اس کی بیوی بھی اس قربانی میں شرح صدر کے ساتھ شامل نہ ہو۔میری بیوی نے بھی دعا اور استخارہ کے بعد مجھے کہا کہ میں ہر قربانی کے لئے تیار ہوں۔تین روز کے بعد میں نے ابا جان کی خدمت میں خط لکھ دیا کہ دعا کے بعد پورے شرح صدر سے دین کی خدمت کے لئے اپنی زندگی وقف کرتا ہوں۔قبول فرمائیں۔اس کا جو تحریری جواب مجھے ملا لکھ رہا ہوں :