یادوں کے دریچے — Page 45
یادوں کے دریچ 45 معمولی سپاہیوں سے کام شروع کرتے ہیں تب کام آتا ہے۔تم جب تک کلر کی کا کام نہ سیکھو نگرانی نہیں کر سکتے۔خان صاحب نے وعدہ کیا ہے کہ دو تین ماہ میں کام سکھا دیں گے تم ان کے دفتر میں جانا شروع کرو لیکن یاد رکھو کہ با قاعدہ جاؤ اور پورا وقت دو۔یہ سوال نہ ہو کہ میں کوئی نوکر تو نہیں۔باقاعدگی اور تنظیم کے بغیر کام نہیں آتا۔اور بنیاد کچی ہو تو ساری عمر وقت رہتی ہے۔میں نے خان صاحب کو سمجھا بھی دیا تھا اور اب خط بھی لکھ رہا ہوں وہ ان کو دے دو۔لاہور جانا ہو تو باقاعدہ چھٹی لے کر جاؤ۔بیماری ہو تب بھی رخصت لو۔غرض بے تنخواہ کا ملازم اپنے آپ کو سمجھو۔یہاں کے بعد اپنے دفتر میں تم کو ٹریننگ دینے کا ارادہ ہے تا کہ جو کام تمہارے سپر د ہو تم اس کو اچھی طرح اور سمجھ کر کر سکو۔والسلام خاکسار مرزا محمود احمد یہ خط ملنے کے دوسرے دن صبح دفتر کھلتے ہی میں خان صاحب کے دفتر کے دروازہ پر پہنچا۔چک اٹھائی اور اندر داخل ہو گیا۔خان صاحب نے ایک قہری نگاہ میری طرف اٹھائی اور فرمایا کہ بغیر اجازت لئے کیوں اندر آئے ہو۔باہر چلے جاؤ اور پھر ا جازت لے کر اندر آؤ۔میں باہر چلا گیا ، باہر جا کر اجازت طلب کی۔اندر بلا لیا۔اندر جا کر کھڑا ہو گیا اور بیٹھنے کی جرات نہیں کی۔کہا کہ بیٹھ جاؤ اور مجھے ہدایات دیں کہ فلاں کلرک کو میں نے سب کچھ سمجھا دیا ہے اس کو جا کر رپورٹ کرو اور کام شروع کر دو۔ان کے اس طریق سے میں سمجھ گیا کہ ابا جان نے خان صاحب کو میرے متعلق خط میں کیا ہدایات دی ہیں۔خان صاحب کی طبیعت میں بڑی سختی تھی اور نظم وضبط کی پابندی تھی۔تین ماہ کے بعد مجھے بلا کر کہا کہ اب تم کو مزید آنے کی ضرورت نہیں میں حضرت صاحب کی خدمت میں خود اطلاع دے دوں گا۔اسی روز دو پہر کے بعد ابا جان نے مجھے بلایا اور فرمایا کہ خان صاحب نے تمہارے متعلق مجھے جور پورٹ دی ہے اس سے مجھے خوشی ہوئی ہے۔تمہاری بڑی تعریف کی ہے کہ بہت ذمہ داری سے کام سیکھا ہے۔ایک دن بھی ناغہ نہیں کیا ، کوئی رخصت نہیں لی۔پھر مسکرا کر فرمایا کہ خان صاحب کی طبیعت میں سختی ہے اسی لئے میں نے ان کے سپر د تمہاری ٹرینگ کی تھی۔وہ تھوڑے کیئے کسی کی تعریف کرنے والے نہیں۔اس ٹریننگ کے بعد مجھے ابا جان نے سندھ اراضیات کی نگرانی کے لئے