یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 39 of 117

یادوں کے دریچے — Page 39

39 کام ہے اور دوسروں سے بڑھ کر کام ہے۔یعنی سفر میں ، حضر میں تبلیغ سے غافل نہ ہوں۔رسول کریم فداه جسمی و روحی فرماتے ہیں تیرے ذریعہ سے ایک آدمی کو ہدایت کا ملنا اسے سے بڑھ کر ہے کہ ایک وادی کے برابر مال تجھ کومل جائے۔5- بنیادی نیکیوں میں سے سچائی ہے۔جس کو سچ مل گیا اس کو سب کچھ مل گیا۔جسے سچ نہ ملا اس کے ہاتھوں سے سب نیکیاں کھوئی جاتی ہیں۔انسان کی عزت اس کے واقفوں میں اس کے سچ کی عادت کے برابر ہوتی ہے۔ورنہ جو لوگ سامنے تعریف کرتے ہیں پس پشت گالیاں دیتے ہیں۔اور جس وقت وہ بات کر رہا ہوتا ہے لوگوں کے منہ اس کی تصدیق کرتے لیکن دل تکذیب کر رہے ہوتے ہیں۔اور اس سے زیادہ برا حال کس کا ہے کہ اس کا دشمن تو اس کی بات کو رڈ کرتا ہی ہے مگر اس کا دوست بھی اس کی بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔اس سے زیادہ قابلِ رحم حالت کس کی ہوگی۔اس کے برخلاف بچے آدمی کا یہ حال ہوتا ہے کہ اس کے دوست اس کی بات مانتے ہیں اور اس کے دشمن خواہ منہ سے تکذیب کریں لیکن ان کے دل تصدیق کر رہے ہوتے ہیں۔6- انسانی شرافت کا معیار اس کے استغناء کا معیار ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا تَمُدَّنَ عَيْنَيْكَ إِلى مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجاً مِنْهُمْ کبھی دوسروں کی دولت پر نگہ نہ رکھے اور کبھی کسی کا حسد نہ کرے۔جو ایک دفعہ اپنے درجہ سے اوپر نگہ اٹھاتا ہے اس کا قدم کہیں نہیں نکلتا۔اگلے جہان میں تو اسے جہنم ملے گی ہی وہ اس جہان میں بھی جہنم میں رہتا ہے۔یعنی حسد کی آگ میں جلتا ہے یا سوال کی غلاظت میں لوٹتا ہے۔کیسا ذلیل وجود ہے وہ کہ اکیلا ہوتا ہے تو حسد اس کے دل کو جلاتا ہے اور لوگوں میں جاتا ہے تو سوال اس کا منہ کالا کراتا ہے۔انسان اپنے نچلوں کو دیکھے کہ وہ کس طرح اس سے تھوڑا رکھ کر قناعت سے گزارا کر رہے ہیں اور اس پر شکر کرے جو خدا تعالیٰ نے اسے دیا ہے اور اس کی خواہش نہ کرے جو اس کو نہیں ملا۔اس کے شکر کرنے سے اس کا مال ضائع نہیں ہوتا۔ہاں اس کے دل کو سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے اور طمع کرنے سے دوسرے کا مال اسے مل نہیں جاتا۔صرف اس کا دل جلتا اور عذاب پاتا ہے۔جس طرح بچہ بڑوں کی طرح چلے تو گرتا اور زخمی ہوتا ہے اسی طرح جو شخص اپنے سے زیادہ سامان رکھنے والوں کی نقل کرتا ہے گرتا اور زخمی ہوتا ہے اور چند دن کی جھوٹے دوستوں کی واہ واہ کے بعد ساری عمر کی ملامت اس کے حصے میں آتی ہے۔انسان کو ہمیشہ اپنے ذرائع سے کم خرچ کرنے کی عادت ڈالنی چاہئے کیونکہ اس کے ذمہ دوسرے بنی نوع انسان کی