یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 38 of 117

یادوں کے دریچے — Page 38

38 میں لگ نہیں سکتا۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا نمازوں کے بعد تینتیس تینتیس دفعہ سبحان الله الحمد للہ پڑھا جائے اور چونتیس دفعہ اللہ اکبر۔یہ سو دفعہ ہوا۔اگر تم کو بعض دفعہ اپنے بڑے نماز کے بعد اٹھ کر جاتے نظر آئیں تو اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ ذکر کرتے نہیں بلکہ وہ ضرور تا اٹھتے ہیں اور ذکر دل میں کرتے جاتے ہیں۔الا ماشاء الله - تہجد غیر ضروری نماز نہیں نہایت ضروری نماز ہے۔جب میری صحت اچھی تھی اور جس عمر کے تم اب ہو اس سے کئی سال پہلے سے خدا تعالیٰ کے فضل سے گھنٹوں تہجد ادا کرتا تھا۔تین تین چار چار گھنٹہ تک اور رسول کریم ﷺ کی اس سنت کو اکثر مد نظر رکھتا تھا کہ آپ کے پاؤں کھڑے کھڑے سوج جاتے تھے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو مسجد میں نماز کا انتظار کرتا اور ذکر الہی میں وقت گزارتا ہے وہ ایسا ہے جیسے جہاد کی تیاری کرنے والا۔2۔اللہ تعالیٰ کسی کا رشتہ دار نہیں وہ ہستی وَلَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ہے۔اس کا تعلق ہر ایک سے اس احساس کے مطابق ہوتا ہے جو اس کے بندے کو اس کے متعلق ہو۔جو اس سے سچی محبت رکھتا ہے وہ اس کے لئے اپنے نشانات دکھاتا ہے اور اپنی قدرت ظاہر کرتا ہے۔دنیا کا کوئی قلعہ ، کوئی فوج انسان کو ایسا محفوظ نہیں کر سکتا جس قدر کہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور اس کی امداد۔کوئی سامان ہر وقت میسر نہیں آسکتا لیکن اللہ تعالیٰ کی حفاظت ہر وقت میسر آتی ہے۔پس اس کی جستجو انسان کو ہونی چاہئے۔جسے وہ مل گئی اسے سب کچھ مل گیا جسے وہ نہ ملی اسے کچھ بھی نہ ملا۔3- زیادہ گفتگو دل پر زنگ لگا دیتی ہے۔رسول کریم ﷺ جب مجلس میں بیٹھتے ستر دفعہ استغفار پڑھتے۔اس وجہ سے کہ مجلس میں لغو باتیں بھی ہو جاتی ہیں اور یہ آپ کا فعل امت کی ہدایت کے لئے تھا نہ کہ اپنی ضرورت کے لئے۔جب آپ اس قدر احتیاط اس مجلس کے متعلق کرتے تھے تو جو اکثر ذکر الہی پر مشتمل ہوتی تھی تو اس مجلس کا کیا حال ہو گا جس میں اکثر فضول باتیں ہوتی ہوں۔یہ سب امور عادت سے تعلق رکھتے ہیں۔میں دیکھتا ہوں ہمارے بچے جب بیٹھتے ہیں لغو اور فضول باتیں کرتے ہیں۔ہم لوگ اکثر سلسلہ کے مسائل پر گفتگو کیا کرتے تھے اس وجہ سے بغیر پڑھتے ہی سب کچھ آتا تھا۔انسان کی مجلس ایسی ہونی چاہئے کہ اس میں شامل ہونے والا جب وہاں سے اٹھے تو اس کا علم پہلے سے زیادہ ہو۔نہ یہ کہ جو علم وہ لے کر آیا ہو اسے بھی کھو کر چلا جائے۔4۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی یا اسلام کی تبلیغ کرنا دوسروں کا ہی کام نہیں ہمارا بھی