یادوں کے دریچے — Page 105
105 وصیت حضرت مصلح الموعودة بسم الله الرّحمن الرّحيم مؤرخہ : 1947-8-30 جماعت احمدیہ واولا د کے نام الف: مجھ پر بہت سا قرض ہے۔اکثر انجمن کی معرفت لیا ہوا ہے۔قادیان کی جائیداد اس کے لئے بالکل کافی تھی۔کئی گنا اس کی قیمت تھی۔مگر نا معلوم ان فتنوں کے بعد اس جائیداد کی قیمت کیا ہو جائے۔اس لئے جماعت سہولت سے یہ قرض وصول کرے اور اولا دخوشی سے یہ رقم ادا کرے۔ب: اگر میرا کوئی بیٹا میری زندگی میں فوت ہو جائے تو اس کی اولا دمیری اولا د کی طرح وارث قرار دی جائے گی اور بچوں کے برابر بھتیجے اور پھوپھیوں کے برابر بھتیجیاں حصہ لیں گے اسی طرح میری بہوئیں بھی۔بڑے داماد یا دوسرے رشتہ دار مل کر اس کے مطابق فیصلہ کرا دیں۔ج : میری اولا دلڑ کے لڑکیاں دنیوی تعلیم حاصل نہ کریں۔قرآن وحدیث کے پڑھنے اور اس پر عمل کرانے میں اپنی عمر گزار ہیں۔د: مکرر۔اگر انگوٹھی اَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ محفوظ رہے تو وہ سلسلہ کو میری طرف سے دی جائے کہ سلسلہ خود اسے محفوظ رکھے۔ایسی امانت کسی ایک شخص کے پاس نہیں رہنی چاہئے۔مرزا محمود احمد لفافہ کے اوپر لکھا ہے: 17 مئی 1959ء وصیت بابت اولاد۔بنام جماعت احمدیہ و اولا دشیخ بشیر احمد صاحب پڑھ لیں اور بحفاظت عزیزم مظفر احمد صاحب کو پہنچا دیں جو اسے ہر طرح اپنے پاس محفوظ رکھیں۔نوٹ : میں ایک وضاحت کے لئے نوٹ لکھ رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت ابا جان نے جملہ قرضہ جات خواہ کسی ذریعہ سے بھی لئے گئے ہوں اپنی زندگی میں ادا کر دیئے تھے۔