یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 102 of 117

یادوں کے دریچے — Page 102

یادوں کے در بیچے 102 قریب کی قیامت بلکہ دور کی قیامتوں کے موقعہ پر سچے مسلمانوں کی سرخروئی اور اعزاز کا موجب ہو گا۔میں اپنے لڑکوں ، لڑکیوں اور بیویوں کو بھی اس کے سپرد کرتا ہوں۔میری نرینہ اولا دموجود ہے لیکن میں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے سوا انسان کچھ نہیں کر سکتا اس لئے میں اولاد در اولا د اور بیویوں اور ان کے وارثوں کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کرتا ہوں جس کی حوالگی سے زیادہ مضبوط حوالگی کوئی نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام تھا: سپردم بتو مایه خویش را تو دانی حساب کم و بیش را ہم نے اس الہام کی سچائی کو 51 سال تک آزمایا ہے اور خدا تعالی سے یقین رکھتے ہیں کہ وہ دنیا کے آخر تک اسلام کی سچائی کو ظاہر کرتا رہے گا۔اس کا کلام ہمیشہ سچا ہی ثابت ہوتا رہے گا۔اصل عزت وہی ہے جو مرنے کے بعد انسان کو ملے گی۔لیکن پھر بھی اس دنیا میں نیکی کا پیج قائم رکھنے سے انسان دعاؤں کا مستحق بن جاتا ہے اور اپنے پرائے اس کی بلندی کے لئے دعائیں کرتے رہتے ہیں۔یہ خوبی کا مقام بھلایا نہیں جا سکتا اور میں اپنے خاندان کے مردوں ، عورتوں کے لئے خدا تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کو یہ مقام ہمیشہ عطا ر کھے اور اسی میں میرے بھائیوں اور بہنوں کی اولا دکو بھی۔محمد رسول اللہ علیہ سے بڑھ کر کوئی پیدا نہیں ہوا نہ آگے پیدا ہو گا۔آپ کو خدا تعالیٰ نے اس دنیا میں اور اگلے جہان میں بھی سردار مقرر کیا ہے۔خدا کرے آپ کی یہ سرداری تا ابد قائم رہے اور ہم قیامت کے دن درود پڑھتے ہوئے آپ کے نشان والا جھنڈا لے کر آپ کے سامنے حاضر ہوں اور اپنے خدا سے بھی کہیں کہ اے خدا ! تو نے جس انسان کی عزت کو اپنی عزت قرار دیا تھا ہم اس کی عزت قائم کر کے آئے ہیں۔ہم پر بھی رحم کر اور اپنے فضلوں کا وارث بنا۔آمین ثم آمین۔میری اولاد کے نام میری نعش میری اماں جان کی نعش اور میری بیویوں کی نعشوں کو قادیان پہنچانا تمہارا فرض ہے۔میں نے ہمیشہ تمہاری خیر خواہی کی تم بھی میری خواہش پوری کرنا۔اللہ تعالیٰ تمہارا حافظ و ناصر ہواور تمہیں عزت بخشے۔