یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 101 of 117

یادوں کے دریچے — Page 101

یادوں کے دریچ 101 سچا راستہ دکھا تا رہے۔بے شک یہ کمزور ہیں تعداد کے لحاظ سے بھی اور روپے کے لحاظ سے بھی اور علم کے لحاظ سے بھی لیکن اگر وہ خدائے جبار کا دامن مضبوطی سے پکڑیں گے تو خدا تعالیٰ کی پیشگوئیاں ان کے حق میں پوری ہوں گی اور دینِ اسلام کے غلبہ کے ساتھ ان کو بھی غلبہ ملے گا۔اس دنیا میں بھی اور اگلی دنیا میں بھی۔خدا تعالیٰ ایسا ہی کرے اور قیامت کے دن نہ وہ شرمندہ ہوں نہ ان کی وجہ سے حضرت مسیح موعود یا رسول اللہ سے شرمندہ ہوں۔نہ خدا تعالیٰ شرمندہ ہو کہ اس نے ایسی نالائق جماعت کو کیوں چنا۔یہ خدا تعالیٰ کا لگایا ہوا آخری پودا ہے جو اس پودے کی آبیاری کرے گا خدا تعالیٰ قیامت تک اس کے بیج بڑھاتا جائے گا اور وہ دونوں جہان میں عزت پائے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ۔اے عزیز و! 1914ء میں خدا تعالیٰ نے اپنے دین کی خدمت کا بوجھ مجھ پر رکھا تھا اور میری پیدائش سے بھی پہلے حضرت مسیح موعود کے ذریعہ میری خبر دی تھی۔میں تو ایک حقیر اور ذلیل کیڑا ہوں۔یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ اس نے مجھے نوازا اور میرے ذریعہ سے دنیا میں اسلام کو قائم کیا۔میں اسی خدائے قدوس کا دامن پکڑ کر اس سے التجا کرتا ہوں کہ وہ اسلام کو برتری بخشے اور محمد رسول اللہ ﷺ کو جو اگلے جہان میں ساری دنیا کے سردار ہیں اس جہان میں بھی ساری دنیا کا سردار بنائے۔بلکہ ان کے خدام کو بھی ساری دنیا کا بادشاہ بنائے مگر نیکی اور تقویٰ کے ساتھ نہ کہ ظلم کے ساتھ۔توحید دنیا سے غائب ہے خدا کرے کہ پھر تو حید کا پرچم اونچا ہو جائے اور جس طرح خدا غالب ہے اس طرح اس کا جھنڈا بھی دنیا میں غالب رہے اور اسلام اور احمدیت دنیا میں تو حید اور تقویٰ اور اسلام کی عظمت پھر دنیا میں قائم کر دیں اور قیامت تک قائم رکھتے چلے جائیں۔یہاں تک کہ وہ وقت آجائے کہ خدا کے فرشتے آسمان سے نازل ہو کر خدا کے بندوں کی روحوں کو بلند کر کے آسمان پر لے جائیں اور ان میں ایک ایسا مضبوط رشتہ قائم کر دیں جو ابد تک نہ ٹوٹے۔آمین ثم آمین۔با دشاہت سب خدا کا حق ہے مگر افسوس ہے کہ انسان نے اپنی جھوٹی طاقت کے گھمنڈ میں اس بادشاہت کو اپنے قبضہ میں کر رکھا ہے اور خدا کے مسکین بندوں کو اپنا غلام بنا رکھا ہے۔خدا تعالیٰ اس غلامی کی زنجیروں کو توڑ دے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔اللہ تعالیٰ رسول کریم ﷺ کی اولا د اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد کو نیکی پر ہمیشہ قائم رکھے اور اعتدال کے راستہ سے پھرنے نہ دے۔اس سے یہ بعید نہیں کہ گوانسان کی نظر میں یہ بڑی مشکل معلوم ہوتی ہے۔میں اس کے بندوں کی باگ اس کے ہاتھ میں دیتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ وہ مجھ سے زیادہ ان کا خیر خواہ ثابت ہوگا اور