یادِ محمود ؓ — Page 49
49 49 J۔تک دنیا تجھے جان لے تھا انیس خلیفہ تیری وہ پہچان لے اور چوده کا سن ہوا وہ تو خلافت کی جب اس نے پہنی قبا جو تھے دوست وہ وہ بھی عدد بن گئے و سمال , آستان شد فخر زمن سارا زمانه مخالف ہوا سب اپنے پرائے مخالف ہوئے محمد علی۔مستری غرض اور اس طرح کے سازشی بڑھے اس کی عظمت کو للکارنے بڑھے دوست بن کر اسے مارنے“ اکیلا تھا وہ راہ پر پیچ تھی تھی راہوں چھائی ہوئی تیرگی کوئی بھی تو اس کا سہارا نہ تھا کہیں درد کا اس کے چارہ نہ تھا ذوالمنن کہ جا کے جہاں کم ہو دل کی جلن اسی آستانے وہ جھک گیا وہ راتوں کو اُٹھ اُٹھ کے رویا کیا وہ سجدے میں گر گر کے روتا رہا وہ اشکوں کے موتی پروتا رہا میں مجبور ہوں وہ ہے بااختیار نہیں مجھ میں طاقت اٹھاؤں یہ بار تو دل کو مرے ہمتیں بخش دے که باطل شکن جراتیں بخش دے لگا رات دن کام کرنے وہ ماہ کہ تھی اس کے دل میں محمد کی چاہ جرنیل تھا جم گیا نہ کی اس نے پرواہ عدد کی ذرا اولوالعزم وقف جديد یہ لجند، یہ تحریک و وقف یہ خدام واطفال اسکول کالج قدیم و جدید ناصرات اسی کا ہے مرہون ان کا ثبات یہ ہیں اس کی ہی محنتوں کے ثمر تھا درد اس کے دل میں جو اسلام کا جہاں مختلف دیں کی تصویر جو مسلم کی حالت یہ کرتا نظر ا۔صہبا اختر کراچی جو پودا لگایا ہوا بارور راسته کام کا معین کیا وہیں اس نے مسجد بھی بھی تعمیر کی تو کرتا تھا خون اپنے قلب و جگر