یادِ محمود ؓ — Page 24
24 24 وہ جو تھا روح الامیں کا ہم زباں جاتا رہا آہ بزم قدسیاں کا رازداں جاتا رہا حامی دین متیں اٹھ گیا بزمِ جہاں سے امت خیر رسل کا پاسباں جاتا رہا طائر بام حرم عرصہ پھر اسے ہوا خاموش تھا کر دے زبان نغمہ خواں جاتا رہا کردیا جس نے کلیساؤں کو توحید آشنا آہ وہ شیریں سخن، شیریں زباں جاتا رہا دیر کو وحدت کے نغموں سے شناسا کردیا بتکدوں کو دے کے گلبانگ اذاں جاتا رہا رونق بستان احمد چھین لی ہے موت نے باغ ہادی بیگ کا سرو رواں جاتا رہا لٹ گئی ابنائے فارس کی متاع بے بہا گنج شائیگاں گوہر یکتائے گنج شائیگاں جاتا رہا جو حصارِ عافیت تھا درد مندوں کے لئے مرجع عالم تھا جس کا آستاں جاتا رہا منتظر رہتی تھی جس کی دید کی ہر ایک آنکھ آه وہ وہ محبوب ہر پیر و جواں جاتا رہا علوم ظاہری و باطنی سے پُر تھا جو علم و عرفاں کا وہ بحر بیکراں جاتا رہا