یادِ محمود ؓ — Page 9
0 تو نے کی مشعل احساس فروزاں پیارے دل کھلا کیسے کھلا دے ترا احساں پیارے روح پژمردہ کو ایماں کی جلائیں بخشیں اور انوار سے دھو ڈالے دل و جاں پیارے ولولوں نے ترے ڈالی مہ وانجم پہ کمند تو نے کی سطوتِ اسلام درخشاں پیارے اب وہی دین محمد کی قسم کھاتے ہیں تھے جو مشہور کبھی دشمن ایماں پیارے پہلے بخشا میرے بہکے ہوئے نغموں کو گداز پھر مری روح پہ کی درد کی افشاں پیارے مجھ کو بھولے گی کہاں وہ تری بھر پور نگاہ جگمگا اٹھتا تھا جب فکر کا ایواں پیارے اب نگاہیں تجھے ڈھونڈیں بھی تو کس جا پائیں جانے کب پائے سکوں پھر دل ویراں پیارے کون افلاک پہ لے جائے یہ روداد الم تیرا متوالا ابھی تک ہے پریشاں پیارے بھٹکتی ہوئی ویرانوں میں روح پھرتی دل ہے نیرنگی افلاک ہے حیراں پیارے شکر ایزد تیری آغوش کا پالا آیا اپنے دامن میں لئے دولت عرفاں پیارے فکر میں جس کی سرایت تیری تخییل کی ضو گفتگو میں بھی وہی حسن نمایاں پیارے جس کی ہر ایک ادا نافلہ لک کی دلیل جس کی ہر ایک نوا درد کا عنواں پیارے کر اس کو لگی دل کی بجھا لیتا ہوں آنے والے پہ نہ کیوں جان ہو قرباں پیارے تیری اس شمع کا پروانہ صفت ہوگا طواف تیرے ثاقب کا ہے اب تجھ سے یہ پیماں پیارے ( ثاقب زیروی)