یادِ محمود ؓ — Page 8
خبر وصال آخری دیدار جنازه کون کہہ رہا تھا وہ محبوب چل بسا جس کی نگاہ لطف کا لبریز جام زیست موت اس کی بزم ناز میں کیونکر پہنچ گئی جس کا وجود باعث صد احترام زیست در گھلے کے پٹ کھلے ہوئے ہیں دیار حبیب پیش عشق کو وہ غم افروز شام ہے آواز دے رہا ہوں رقیبوں کو ہر طرف اے دلفگارو دورو دیدار عام ہے ہونٹوں آه سرد جبینوں پہ غم کی دھول آنکھوں میں سیل اشک چھپائے ہوئے چلا دن ڈھل گیا تو درد نصیبوں کا قافلہ آفتاب اٹھائے ہوئے چلا کاندھوں انتظار تاریخ پھر کھڑی ہے دوراہے وقت کے بیتاب دل کو کسی محسن کا انتظار ہے جو اس کے ہر ورق میں سموئے نظر کا نور اور تشنہ جدولوں میں بھرے روح کا نکھار ( ثاقب زیروی)