یادِ محمود ؓ — Page 101
101 حضور والا کی برکات کون بھولے گا وه مهر و لطف و عنایات کون بھولے گا وہ گاہے گاہے ملاقات کون بھولے گا وہ سب سے عدل و مساوات کون بھولے گا غرض گوارا نہیں حضور کی فرقت ہے مگر خدا ނ گلہ کی بھلا کیسے جرات ہے مگر رونق بہار نہیں بہار تو چمن میں گل تو ہیں لیکن وہ گلعذار نہیں نشیمنوں میں عنادل کو بھی قرار نہیں وہ کون ہے جو گلستاں میں سوگوار نہیں کہ سُوئے خلدِ بریں باغباں ہوا رخصت بهار و رونق بزم جہاں ہوا رخصت خود اپنے خوں سے جو گلشن تھا آپ نے سینچا کبھی نہ وقت خزاؤں کا جس پر آنے دیا جسے تھا آپ کے عزم و عمل کا پانی ملا ہمیشہ آپ کی خوشبو سے جو مہکتا رہا بنا سجا کے اسے آپ ہوگئے رخصت ابھی ٹھہرتے، تھی اتنی بھی کونسی عجلت یہ کاروان مسیحا تو چلتا جائے گا قدم بفضل خدا اب نہ ڈگمگائے گا خیال آپ کا ہر دم دلوں مگر مگر رلائے گا اور عہد مصلح موعود یاد آئے گا پہ گرچہ ہے غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا مرضی مولی بھی از ہمہ اولی ہے مولوی محمد صدیق امرتسری سابق مبلغ سنگاپور )