یادِ محمود ؓ — Page 100
100 ملی ہے ربوہ سے یہ خبر جانکاہ یہاں کہ چل بسا ہے جہاں سے وہ رحمتوں کا نشاں ہمیشہ کام رہا جس کا خدمت انساں اٹھا رکھا تھا جماعت کا جس نے بار گراں کسے خبر تھی ہے نزدیک رحلت حضرت کیسے خیال تھا ہوجائیں گے وہ یوں رخصت وہ جس کے سر پہ سدا ظلتِ کردگار رہا جو روز و شب غم ملت میں بیقرار رہا ہر اک کا محسن وہ ہمدرد و غمگسار رہا الم نصیب اسیروں کا رستگار رہا وہ نور و رحمت رحماں بھی پا گیا رحلت خدا ہی جانے کہ مضمر ہے اس میں کیا حکمت رہا جو برسر پیکار کفر سے ہردم کیا بلند جہاں میں محمدی پرچم صلائے عام رہے جس کے فیض و حلم و کرم کیا نظام خلافت کو جس نے مستحکم وہ ظل شاہد و مشہور ہو گیا رخصت مسیح پاک کا محمود ہو گیا رخصت جلائیں شمعیں ہدایت کی کو بہ کو جس نے بنائیں مسجدیں دنیا میں چار سو جس نے بڑھائی دین محمد کی آبرو جس نے بسائی قوم مسیحا کنار جو جس نے وہ رہبر ره حق آہ ہو گیا رخصت نہ جانے مولیٰ کی مضمر ہے اس میں کیا حکمت لے شاہد حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور مشہود حضرت نبی کریم ﷺ ہیں