وِرثہ میں لڑکیوں کا حصہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 12 of 16

وِرثہ میں لڑکیوں کا حصہ — Page 12

12 میں تمام مخلص احمدی باپوں اور مخلص احمدی بھائیوں سے قرآنی الفاظ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ :- هَل انتم منتَهُونَ د یعنی کیا اب بھی تم اس ظلم سے باز نہیں آؤ گے؟“ کہا جاتا ہے کہ لڑکیاں جہیز کی صورت میں بہت کچھ لے لیتی ہیں اس لئے اگر اُن کو باپ کے ورثہ میں سے کوئی حصہ نہ ملے تو یہ کوئی ظلم نہیں۔لیکن اول تو نعوذ باللہ یہ خدائی شریعت پر ناپاک اعتراض ہے کہ خدا نے جہیز کا علم رکھتے ہوئے لڑکیوں کے لئے ورثہ میں حق مقرر کیا۔علاوہ ازیں یہ ایک ایسا غذر ہے جو بدتر از گناہ ہے کیونکہ کیا لڑکوں کی شادی پر خرچ نہیں ہوتا؟ اور پھر کیا لڑکوں کی تعلیم پر لوگ ہزاروں روپیہ خرچ نہیں کرتے؟ بلکہ بعض والدین تو اپنے لڑکوں کو یورپ اور امریکہ بھجوا کر اپنی جائیدادیں ہی عملاً ختم کر دیتے ہیں۔پس خدا را جھوٹے غذر بنا کر اپنے نفسوں کو دھوکا نہ دو۔کیونکہ یقیناً تم قیامت کے دن اس کے متعلق پوچھے جاؤ گے۔پھر کہا جاتا ہے کہ لڑکیوں کو حصہ دینے سے خاندان کی جائیداد دوسرے خاندان میں چلی جاتی ہے۔میں کہتا ہوں کہ اگر سوچو تو مال دراصل خدا کا ہے اور انسان کا ترکہ جو وہ اپنی وفات کے وقت چھوڑتا ہے وہ تو خصوصیت سے خدا کا ہے۔پس جب خود خدا اُسے ایک خاص رنگ میں تقسیم کرنے کا حکم دیتا ہے تو زید بکر عمر کو کیا حق ہے کہ اس تقسیم میں رخنہ ڈالے؟ اور