واقعات صحیحہ — Page 48
3 ۴۸ بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم پیر مہر علی شاہ صاحب کے توجہ دلانے کے لئے آخری حیلہ ناظرین کو خوب یاد ہوگا میں نے موجودہ تفرقہ کے دور کرنے کے لئے پیر مہر علی شاہ صاحب کی خدمت میں یہ تجویز پیش کی تھی کہ ہم دونوں قرعہ اندازی کے ذریعہ سے ایک قرآنی سورہ لے کر عربی فصیح بلیغ میں اس کی ایسی تفسیر لکھیں جو قرآنی علوم اور حقائق معارف پر مشتمل ہو اور پھر تین کس مولوی صاحبان جن کا ذکر پہلے اشتہار میں درج ہے۔قسم کھا کر ان دونوں تفسیروں میں سے ایک تفسیر کو ترجیح دیں کہ اس کی عربی نہایت عمدہ اور اس کے معارف نہایت اعلیٰ درجہ کے ہیں۔پس اگر پیر صاحب کی عربی کو ترجیح دی گئی تو میں سمجھے لوں گا کہ خدا میرے ساتھ نہیں ہے تب ان کے غلبہ کا اقرار کروں گا اور اپنے تئیں کا ذب سمجھوں گا اور اس طرح پر فتنہ جو ترقی پر ہے فرد ہو جائے گا اور اگر میں غالب رہا تو پھر میرا دعوی مان لینا چاہئے۔اب ناظرین خود سوچ سکتے ہیں کہ اس طرح سے بڑی صفائی سے فیصلہ ہوسکتا تھا اور پیر صاحب کے لئے مفید تھا کیونکہ قسم کھانے والا جس کے فیصلہ پر حصر رکھا گیا تھا۔وہ مولوی محمد حسین بٹالوی ہے اور دو ان کے اور رفیق تھے مگر پیر صاحب نے اس دعوت کو قبول نہ کیا اور اس کے جواب میں یہ اشتہار بھیجا کہ پہلے نصوص قرآنیہ حدیثیہ کی رو سے مباحثہ ہونا چاہئے اور اس مباحثہ کے حکم وہی مولوی محمد حسین صاحب اور ان کے دور فیق تھے۔اگر وہ قسم کھا کر کہہ دیں کہ اس مباحثہ میں پیر مہر علی شاہ صاحب جیت گئے تو اسی وقت لازم ہوگا کہ میں ان کی بیعت کر لوں پھر بالمقابل تفسیر بھی لکھوں۔اب ظاہر ہے کہ اس طرح کے جواب میں کیسی چال بازی سے کام لیا گیا ہے۔منہ سے تو وہ میری تمام شرطیں منظور کرتے ہیں مگر تفسیر لکھنے کے امر کو ایک مکر سے ٹال کر زبانی مباحثہ پر حصر کر دیا ہے اور ساتھ ہی بیعت کی شرط لگا دی ہے۔بہت زور دیا گیا مگر ان کے منہ سے اب تک نہیں نکلا کہ ہاں مجھے بغیر زیادہ کرنے کسی اور شرط کے فقط بالمقابل عربی میں تفسیر لکھنا منظور ہے اور با ایں ہمہ ان کے مرید لا ہور کے کوچہ و بازار میں مشہور کر رہے ہیں کہ پیر صاحب نے شرطیں منظور کر لی تھیں