واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 46 of 142

واقعات صحیحہ — Page 46

۴۶ پر نہیں ہو تو تمہیں میری بیعت کرنی پڑے گی پھر اس کے بعد تفسیر لکھنے کا بھی مقابلہ کر لینا اب ناظرین خود سوچ لیں کہ کیا انہوں نے اس طرز کے جواب میں میری دعوت کو قبول کیا یا رد کیا میں نہیں سمجھ سکتا کہ یہ کس قسم کا ٹھٹھا اور جنسی ہے کہ ایسے عقائد کے بحثوں میں جن میں اُن کو خود معلوم ہے کہ مولوی محمد حسین بٹالوی سب سے اول مخالف شخص ہے اُس کی رائے پر فیصلہ چھوڑتے ہیں حالانکہ خوب جانتے ہیں کہ اس کا مجھے سچا قرار دینا گویا اپنی قدیم مخالفت کو چھوڑنا ہے ہاں اعجازی مقابلہ پر اگر اُس کی قسم پر مدار رکھا جاتا تو یہ صورت اور تھی کیونکہ ایسے وقت میں جب کہ خدا تعالیٰ ایک معجزہ کے طور پر ایک فریق کی تائید کرتا تو محمد حسین کیا بلکہ صدہا انسان بے اختیار بول اٹھتے کہ خدا نے اپنے روح القدس سے اس شخص کی مدد کی کیونکہ اس قد را نکشاف حق کے وقت کسی کی مجال نہیں جو جھوٹی قسم کھا سکے ورنہ منقولی مباحثات میں تو عادتاً ایک گو دن طبع اپنے تئیں سچ پر سمجھتا ہے اور قسم بھی کھا لیتا ہے۔ما سوا اس کے پیر صاحب کو یہ بھی معلوم ہے کہ میں رسالہ انجام آتھم میں شائع کر چکا ہوں کہ آئندہ میں ایسی منقولی بحثیں ان علماء سے نہیں کروں گا اور پھر کیونکر ممکن ہے کہ میں اس عہد کو توڑ دوں اور پیر صاحب کی جماعت کی تہذیب کا یہ حال ہے کہ گندی گالیوں کے کھلے کارڈ میرے نام ڈاک کے ذریعے سے بھیجتے ہیں۔ایسی گالیاں کہ کوئی ادنیٰ سے ادنی چوہڑہ یا چمار بھی زبان پر نہیں لا سکتا۔پہلے میرا ارادہ تھا کہ پیر صاحب کا یہ گمان باطل بھی توڑنے کے لئے کہ گویا نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کی رو سے کچھ بحث کر سکتے ہیں اپنے دوستوں میں سے کسی کو بھیج دوں اور اگر حتمی فی اللہ فاضل جلیل القدر مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی پیر صاحب کے ساتھ بحث کرنا قبول فرماتے تو اُن کا فخر تھا کہ ایسے سید بزرگوار محدث اور فقیہ نے اپنے مقابلہ کے لئے اُن کو قبول کیا مگر افسوس کہ سید صاحب موصوف نے جب یہ دیکھا کہ اُس جماعت میں ایسے گندے لوگ موجود ہیں کہ گندی گالیاں اُن کا طریق ہے تو اس کو مشتے نمونہ از خروارے پر قیاس کر کے ایسی مجلسوں میں حاضر ہونے سے اعراض بہتر سمجھا ہاں میں نے پیر مہر علی شاہ صاحب کے لئے بطور تحفہ ایک رسالہ تالیف کیا ہے جس کا نام میں نے تحفہ گولڑو یہ رکھا ہے۔جب پیر صاحب موصوف اس کا جواب لکھیں گے تو خود لوگوں کو معلوم ہو جاوے گا کہ ہمارے دلائل کیا ہیں اور ان کا جواب کیا۔اب ہم اپنے اس