واقعات صحیحہ — Page 38
۳۸ یہ چار سال کا واقعہ ہے۔اب جیسا کہ حضرت مرزا صاحب نے پیر صاحب گولڑوی کو بسبب اُن کی بے جا مخالفت اور اپنی کتاب میں علم و فضل کی لاف زنی کے اس بات کی دعوت کی کہ وہ اُن کے مقابلہ میں بعد دعا کے قرآن شریف کی چند آیات کی تفسیر عربی زبان میں لکھیں اور پبلک کو دکھا ئیں کہ قبولیت دعا و معارف قرآنی کا کھلنا کس کے حق میں مومن ہونے کا فیصلہ دیتا ہے۔تو پیر صاحب گولڑوی نے وہی بات پیش کر دی کہ ہمارے ساتھ پہلے زبانی مباحثہ کرو حالانکہ مرزا صاحب آج سے چار سال پہلے شائع کر چکے ہیں کہ اب ہم ان امور میں مباحثہ نہیں کریں گے۔اصل میں پیر صاحب گولڑوی کا نہ اتنا ایمان ہے کہ اُن کی دعا حضرت اما منا کے مقابلہ میں قبول ہو اور نہ اتنی لیاقت ہے کہ بالمقابل تفسیر عربی لکھ سکیں اس واسطے انہوں نے یہ حجت بازی کی۔۔اور ضرور تھا کہ مرزا صاحب کے دیگر مخالف ملانوں کی طرح وہ بھی ایسا کرتے تا کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ کی بات پوری ہو کہ اخیر زمانہ میں لوگ یہود کی خصائل کو اختیار کریں گے۔طرفہ یہ کہ پیر گولڑوی اپنے اشتہار میں لکھتے ہیں کہ مرزا صاحب اگر تقریری بحث میں اپنا دعویٰ ثابت نہ کر سکے تو اُن کو بیعت تو بہ کرنی ہو گی۔مگر ایمانداری تو یہ تھی کہ ساتھ ہی یہ بھی لکھ دیتے کہ اگر مرزا صاحب غالب آگئے تو ہم بھی بیعت تو بہ کریں گے۔اس کے آگے آپ تحریر فرماتے ہیں کہ بحث کے بعد مرزا صاحب کو اجازت مقابلہ تحریری کی دی جاوے گی۔ہمیں تعجب آتا ہے پیر صاحب کے ان الفاظ پر۔جناب کو اتنی عقل نہیں آئی کہ مباحثہ کا نتیجہ تو آپ نے رکھا ہے بیعت تو بہ۔تو جب بیعت تو بہ ہو جاوے گی تو کیا پیرومرید کے درمیان بھی مقابلہ ہوا کرتا ہے، بریں عقل و دانش باید گریست- شاید کہ پیر صاحب کے مریدان سے ایسا ہی سلوک کیا کرتے ہیں۔سچ ہے جو شخص اتنی بھی سوجھ نہیں رکھتا وہ بے چاره معارف قرآنی میں کیونکر مقابلہ کرے۔اس پر پیر صاحب کے مرید نہایت گندے اور ناپاک الفاظ میں کوئی پنڈی سے اور کوئی لاہور سے اشتہاروں میں حضرت اقدس مرزا صاحب کو گالیاں دیتے ہیں اور افترا باندھتے ہیں اور اُس فیض روحانی کا اثر دکھاتے ہیں جو اُن کو حاصل ہو رہا ہے۔اور کہتے ہیں کہ پیر صاحب نے سب شرطیں منظور کر لیں۔اگر ایسا ہی ہے تو حکیم سلطان محمود راولپنڈی والا اور محمد دین کتب فروش لاہور والا اور دوسرے مرید